پاکستان

ورلڈ بینک نے پنجاب کے پریٹ منصوبے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیدیا

  • ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق منصوبہ اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کی جانب درست سمت میں گامزن ہے
شائع اپ ڈیٹ

ورلڈ بینک کے تعاون سے پنجاب میں جاری پنجاب ریزیلینٹ اینڈ انکلیوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (پریٹ) منصوبے نے ابتدائی مرحلے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ منصوبے کے تحت پانی کے مؤثر استعمال، فصلوں کے تنوع اور کسانوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں اور جدید آبپاشی کے نظام کے ذریعے پاکستان کے زرعی شعبے کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق منصوبہ اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول کی جانب درست سمت میں گامزن ہے اور اس کی پیش رفت اور عمل درآمد کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی خطرے کی درجہ بندی درمیانی برقرار رکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت تقریباً 6,800 آبی گزرگاہیں (واٹر کورسز) بہتر بنائی جا چکی ہیں، جس سے 1.3 ملین کے قریب افراد مستفید ہوئے ہیں اور 1.5 ملین ایکڑ زرعی اراضی پر آبپاشی کے نظام میں بہتری آئی ہے۔

منصوبے میں شامل کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں اور کھیتوں میں پانی کے مؤثر استعمال کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ گندم کی فی یونٹ پانی پیداوار میں 41 فیصد جبکہ چاول میں 71 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نہروں کے آخری سروں تک پانی کی منصفانہ تقسیم میں 41 فیصد بہتری آئی، جبکہ زیادہ منافع بخش فصلوں کے زیرِ کاشت رقبے میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس منصوبے سے وابستہ کسانوں کی آمدن غیر مستفید کسانوں کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق آم، کینو، ٹماٹر، پیاز اور مونگ پھلی کی ویلیو چینز میں 181 فارمرز انٹرپرینیورز گروپس قائم کیے گئے ہیں، جن میں 2,330 کسان شامل ہیں تاکہ زرعی مصنوعات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور زرعی کاروبار سے روابط مضبوط ہوں۔

اب تک منصوبے سے براہِ راست مستفید ہونے والوں کی تعداد 1.29 ملین تک پہنچ چکی ہے، جن میں 47 فیصد خواتین شامل ہیں۔ مالی طور پر بھی منصوبہ اچھی رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے اور 202.29 ملین امریکی ڈالر کی مجموعی فنڈنگ میں سے 160.89 ملین ڈالر یعنی تقریباً 79.5 فیصد رقم جاری کی جا چکی ہے۔ منصوبہ 30 جون 2027 کو مکمل ہونے کی توقع ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026