دنیا

بھارتی وزیرِ تعلیم مستعفی، نئی دہلی میں احتجاج ختم کرنے کی اپیل

  • وزیرِ تعلیم نے مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل اپنے استعفے کا اعلان کر دیا
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے سے قبل نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے ملک گیر احتجاج میں امتحانی نظام میں سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں پر ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

اس ہفتے دارالحکومت نئی دہلی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں ہزاروں نوجوان سوشل میڈیا سے ابھرنے والی ”کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)“ کے بینر تلے جمع ہوئے۔ مظاہرین نے تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

دھرمیندر پردھان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”گزشتہ دس دنوں کے واقعات نے مجھے بے حد رنجیدہ کیا ہے۔ میرے لیے یہ ذاتی وقار کا معاملہ نہیں ہے۔“

اپنے استعفے کے خط میں، جو ہندی زبان میں تحریر کیا گیا، دھرمیندر پردھان نے کہا، ”میں اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو بھجوا چکا ہوں۔“

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اعلان کیا کہ حکومت نے مذاکرات کے ایک اور دور میں ان کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد انہوں نے نئی دہلی کے وسط میں واقع جنتر منتر پر جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس ہفتے جب مظاہرین نے احتجاجی مقام سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج بھی کیا۔

حکومت نے پیر اور جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سے دو ادوار کے مذاکرات کیے، تاہم ابتدا میں کوئی نمایاں پیش رفت نہ ہو سکی کیونکہ نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے اپنے مطالبات پر اصرار برقرار رکھا۔

وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے مذاکرات کے تیسرے دور سے قبل اپنے استعفے کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے کہا، ”بھارت کی نوجوان قوت ہی اس ملک کی حقیقی طاقت ہے۔ میرا عزم ہے کہ ہم ملک کے نوجوانوں کو بے یقینی اور الجھن کے بھنور میں نہیں پھنسنے دیں گے۔“

’ہم کامیاب ہو گئے‘

دھرمیندر پردھان کے استعفے کے اعلان کے بعد مظاہرین خوشی سے جھوم اٹھے۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے سینکڑوں مظاہرین کے پُرجوش نعروں کے درمیان کہا، ”ہم کامیاب ہو گئے۔“

وقت گزرنے کے ساتھ اس تحریک کا دائرہ صرف امتحانی بے ضابطگیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں بے روزگاری، نوجوانوں کے لیے مواقع کی کمی اور ناقدین کے بقول وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی جیسے مسائل بھی شامل ہو گئے۔

یہ احتجاج 2024 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ہندو قوم پرست وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گیا۔

سی جے پی کے ترجمان آشوتوش رانکا کے مطابق، مظاہرین کے دیگر مطالبات میں امتحانی بے ضابطگیوں سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے اور مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

بھارت میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان کے استعفے کو ”ایک بڑا قدم“ قرار دیا۔

راہول گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ معافی مانگیں اور طلبہ اور بھارت کے مستقبل، یعنی نوجوان نسل، کا احترام کریں۔

انہوں نے کہا، ”طلبہ پر تشدد کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔“

27 سالہ سنیل، جو ہفتے کے روز پہلی مرتبہ احتجاجی مقام پر ”ماحول کا خود مشاہدہ کرنے“ کے لیے آئے تھے، نے کہا کہ ”وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد یہاں کا ماحول واقعی غیرمعمولی حد تک پُرجوش ہو گیا ہے۔“

انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا، ”نوجوانوں نے جو کچھ کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین ہے۔“