امریکی توانائی کمپنی کی بلوچستان میں معدنیات اور تیل و گیس کے منصوبوں میں دلچسپی
- وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سےمعروف عالمی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے معروف بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پہلی ملاقات میں وفاقی وزیر نے امریکی توانائی کمپنی مورگن ہیوز انرجی کے صدر گریگوری بلوم اور تجارہ کیپیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد ولید سے ملاقات کی۔ اس موقع پر پاکستان کے توانائی اور اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز) کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گریگوری بلوم نے بلوچستان میں اہم معدنیات کی ترقی کے وسیع امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مورگن ہیوز انرجی اور تجارہ کیپیٹل مشترکہ طور پر معدنیات کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں بھی مواقع کا جائزہ لے رہی ہیں، خصوصاً موجودہ آئل و گیس فیلڈز کی بہتری (فیلڈ آپٹیمائزیشن) کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافے اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ذمہ دارانہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
دوسری ملاقات میں وفاقی وزیر نے ویٹول ایشیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کیرن گالاگھر اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی جس میں پاکستان کے پیٹرولیم شعبے میں جاری تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر نے ویٹول کو گوادر میں بنکرنگ آپریشنز کے کامیاب آغاز پر مبارکباد دی اور کمپنی کی جانب سے ہائی سلفر فیول آئل کو ویری لو سلفر فیول آئل میں تبدیل کرنے کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے منصوبے کیلئے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں پاکستان کی نئی متعارف کرائی گئی بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کے تحت دستیاب مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توانائی کی رسد و ترسیل کے نظام کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے اور مزید بین الاقوامی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششوں کے تحت ویٹول سمیت عالمی شہرت یافتہ توانائی کمپنیوں کے ساتھ بانڈڈ اسٹوریج انفرااسٹرکچر سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
دونوں ملاقاتوں میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان عالمی توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل المدتی توانائی تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے پُرعزم ہے۔