پاکستان

مستونگ حملے میں سیشن جج اور ان کا محافظ جاں بحق

  • وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا
شائع اپ ڈیٹ

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سیشن جج اور ان کا سکیورٹی گارڈ جاں بحق، جبکہ ایک ایڈیشنل سیشن جج سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق ججز کوئٹہ سے مستونگ کی سیشن عدالت جا رہے تھے کہ ولی خان کے علاقے میں حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

جاں بحق ہونے والے جج کی شناخت سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سکیورٹی گارڈ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومین کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

وزیراعظم نے ایڈیشنل سیشن جج طارق لشاری سمیت زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے بھی دعا کی اور کہا کہ ایسی ”بزدلانہ کارروائیاں“ دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

انہوں نے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کے ذریعے معاشرے کی خدمت کرتی ہے، اور یہ حملہ ایک افسوسناک سانحہ ہے۔

دریں اثنا، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے سیشن جج اور ان کے سکیورٹی گارڈ کے قتل کو انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے ارکان پر حملہ دراصل ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا، ”ججوں اور وکلا کو نشانہ بنانا صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

شاہد رند نے کہا کہ صوبائی حکومت نے حملے میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا حکم دے دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔