پاکستان

پی ڈی ایم اے سندھ کا 25 جولائی تک شدید مون سون بارشوں کے پیش نظر صوبے بھر میں الرٹ جاری

  • پی ڈی ایم اے کے مطابق حیدرآباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین اور سانگھڑ کے چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے
شائع اپ ڈیٹ

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ نے جمعرات کو متوقع مون سون بارشوں اور تیز ہواؤں کے پیش نظر صوبہ بھر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور ہنگامی امدادی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی الرٹ رہیں اور تمام احتیاطی اقدامات یقینی بنائیں۔

پی ڈی ایم اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل سید سلمان شاہ کے مطابق محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) نے پیش گوئی کی ہے کہ 23 سے 25 جولائی کے دوران بحیرۂ عرب سے داخل ہونے والی طاقتور مون سون ہواؤں کے باعث سندھ کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد، تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، سانگھڑ، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہٰ یار، مٹیاری، جامشورو اور شہید بینظیر آباد کے چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

اسی طرح گھوٹکی، کشمور، جیکب آباد، شکارپور، سکھر اور خیرپور میں ہلکی سے درمیانی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ لاڑکانہ، نوشہروفیروز اور ٹھٹھہ میں آج اور کل گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

سلمان شاہ نے خبردار کیا کہ تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کمزور عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سولر پینلز اور اشتہاری بورڈز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ”پی ڈی ایم اے نے مون سون سے نمٹنے کا ہنگامی منصوبہ فعال کر دیا ہے، جبکہ ڈی واٹرنگ پمپس اور دیگر ضروری مشینری بھی فوری استعمال کے لیے تیار رکھی گئی ہے۔ شہری اور اچانک سیلاب کے خطرے سے دوچار نشیبی علاقوں کی بھی نشاندہی کر لی گئی ہے تاکہ بروقت کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”اگر کسی علاقے میں ضرورت پیش آئی تو پانی نکالنے والی مشینری فوری طور پر متاثرہ مقام پر منتقل کر دی جائے گی۔“

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ خراب موسمی حالات میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں اور غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہیں، اور اپنی حفاظت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔