دنیا

حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا

  • غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر اسرائیل کا بدستور قبضہ برقرار، حملے جاری، 20 لاکھ سے زائد فلسطینی بدستور سنگین انسانی بحران کا شکار
شائع اپ ڈیٹ

حماس نے پیر کو جاری بیان میں خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا مجموعی سربراہ نامزد کر دیا۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق اس فیصلے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات پر تنظیم مزید سخت مؤقف اختیار کر سکتی ہے۔

خلیل الحیہ نے یحییٰ السنوار کی جگہ لی ہے، جو اکتوبر 2024 میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج کے ساتھ لڑائی کے دوران مارے گئے تھے۔ اس وقت حماس اور اسرائیل کے درمیان دو سالہ بھرپور جنگ جاری تھی۔

غزہ میں حماس کے جلاوطن سربراہ اور تنظیم کے اہم مذاکرات کار خلیل الحیہ، یحییٰ السنوار اور اسماعیل ہنیہ کی شہادتوں کے بعد تنظیمی قیادت میں بتدریج زیادہ بااثر شخصیت بن کر ابھرے۔ اسماعیل ہنیہ جولائی 2024 میں ایران میں قتل ہوئے تھے۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام نے بتایا کہ خلیل الحیہ بھی 2025 میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی حملے کا ہدف بننے والے حماس کے سینئر رہنماؤں میں شامل تھے، جہاں وہ مقیم ہیں۔

1987 میں قائم ہونے والی حماس کو اس وقت اپنی تاریخ کے سخت ترین چیلنجز کا سامنا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی دو سالہ جنگ نے تنظیم کو شدید نقصان پہنچایا، جبکہ عالمی برادری بھی اس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اگرچہ امریکا کی ثالثی میں اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد غزہ میں لڑائی کی شدت کم ہوئی ہے، تاہم غزہ کے 60 فیصد سے زائد علاقے پر اسرائیل کا بدستور قبضہ برقرار ہے، حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے اور 20 لاکھ سے زائد فلسطینی شدید انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروہوں کے ان عناصر کو نشانہ بناتا ہے جو فوری خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے خلیل الحیہ کی نامزدگی پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

طبی ذرائع کے مطابق پیر کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں ایک گاڑی کو اسرائیلی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ اسرائیلی فوج نے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 1,150 سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت شہریوں کی ہے، جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں مسلح گروہوں کے حملوں میں چار اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔

حماس عموماً اپنے جانی نقصانات کی تفصیلات جاری نہیں کرتی۔

نامزدگی کو مزاحمت کا پیغام قرار دیا جا رہا ہے

یحییٰ السنوار کی شہادت کے بعد حماس نے تنظیمی امور چلانے کے لیے پانچ رکنی اعلیٰ کونسل تشکیل دی تھی، جس میں خلیل الحیہ، خالد مشعل اور تین دیگر رہنما شامل تھے۔

حماس کے نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل ایک طویل مرحلہ تھا، جس کا آغاز جنوری میں ہوا تھا، تاہم ایران اور لبنان میں جنگوں اور غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار رہا۔

حماس کے نئے سربراہ کا انتخاب 50 رکنی کونسل کرتی ہے، جس میں غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے، اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے ارکان اور جلاوطن رہنما شامل ہوتے ہیں۔

فلسطینی سیاسی تجزیہ کار ریحام عودہ کے مطابق خلیل الحیہ کا انتخاب اس بات کا واضح پیغام ہے کہ حماس مسلح مزاحمت پر قائم رہے گی، کسی بھی صورت غیر مسلح ہونے پر آمادہ نہیں ہوگی، اپنی فوجی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی اور ایران کے ساتھ اپنے اتحاد اور نام نہاد ”محورِ مزاحمت“ سے وابستگی برقرار رکھے گی۔

انہوں نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا، ”اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کرنے سے متعلق مذاکرات کو بڑے چیلنجز اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔“

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق غزہ کا انتظام ایک تکنوکریٹ فلسطینی انتظامیہ کے سپرد ہوگا، جس کی نگرانی ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے پاس ہوگی۔

تاہم حماس، ثالث ممالک، مصر، قطر، ترکی اور ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات اب تک تنازع کے خاتمے کے لیے کسی جامع معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

غزہ میں جاری جنگ کے نتیجے میں ہونے والی وسیع تباہی کے باعث حماس کو خود غزہ کے اندر بھی تنقید کا سامنا ہے۔ غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق جنگ میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ محصور علاقے کا بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔