کرکٹ لیجنڈ سوبرز کے انتقال پر خراجِ عقیدت کا سلسلہ جاری
- ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچی، مگر سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے
دنیا کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں شمار ہونے والے گیری سوبرز کے 89 برس کی عمر میں جمعہ کو انتقال کے بعد کرکٹ کی دنیا بھر سے انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
سوبرز نے 1954 سے 1974 کے درمیان ویسٹ انڈیز کی جانب سے 93 ٹیسٹ میچز کھیلے اور جارحانہ بیٹنگ، تیز اور اسپن دونوں طرز کی بولنگ میں مہارت، اور شاندار فیلڈنگ کے باعث کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین آل راؤنڈرز میں اپنی جگہ بنائی۔
کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا، ”ایک عظیم اننگز اپنے اختتام کو پہنچی، مگر سر گارفیلڈ سوبرز ہمیشہ، اب اور ہمیشہ کے لیے، ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے۔“
کرکٹ ویسٹ انڈیز کے صدر کشور شیلو نے کہا کہ گیری سوبرز کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔
کرکٹ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے کہا، ”سر گارفیلڈ سوبرز اپنی آخری اننگز مکمل کر چکے ہیں، لیکن ان کی میراث ہمیشہ ہمارے خطے کے لوگوں کے دلوں اور کرکٹ کی تاریخ میں زندہ رہے گی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”کرکٹ ویسٹ انڈیز کی جانب سے میں ان کے اہلِ خانہ، حکومت اور عوامِ بارباڈوس، اور دنیا بھر میں ان کے انتقال پر سوگوار تمام افراد سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔“
کرکٹ ویسٹ انڈیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کرس ڈیہرنگ نے کہا کہ ”سوبرز ہمیشہ کیریبین کے عظیم ترین سفیروں میں شمار کیے جائیں گے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”جہاں کہیں بھی کرکٹ کھیلی جائے گی، ان کی میراث زندہ رہے گی، اور جب بھی کوئی نوجوان ویسٹ انڈین مرون جرسی پہننے کا خواب دیکھے گا، سوبرز کی روح اس کے جذبے میں موجود ہوگی۔“
ویسٹ انڈیز کی مردوں کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان روسٹن چیز، خواتین ٹیم کی کپتان ہیلی میتھیوز اور ون ڈے ٹیم کے کپتان شائی ہوپ نے مشترکہ بیان میں گیری سوبرز کی غیرمعمولی صلاحیت، انکساری اور کھیل سے غیرمتزلزل وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اثر صرف کرکٹ کے میدان تک محدود نہیں تھا۔
تینوں کپتانوں نے کہا، ”بارباڈوس سے دنیا کے عظیم ترین کرکٹر بننے تک سر گیری سوبرز کا سفر کرکٹ کی تاریخ کی سب سے متاثرکن داستانوں میں سے ایک ہے۔“
ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان برائن لارا نے بھی سوبرز کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ کے لیے صبر کی دعا کی۔
لارا نے کہا، ”سکون سے آرام کریں، لیجنڈ۔ آپ کی میراث کبھی فراموش نہیں کی جائے گی۔“
انگلینڈ کے سابق بلے باز جیفری بوائیکاٹ نے سوبرز کو ”صدیوں میں پیدا ہونے والا کھلاڑی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سپر اسٹار ہونے کے ساتھ نہایت خوش مزاج انسان بھی تھے۔
دی ٹیلی گراف میں شائع اپنے کالم میں بوائیکاٹ نے لکھا، ”میں نے کبھی انہیں کسی کھلاڑی کی شکایت کرتے یا اس کے خلاف بات کرتے نہیں سنا۔ ان کا دل بہت بڑا تھا، وہ اپنا وقت اور مشورہ دونوں فراخ دلی سے دیتے تھے۔“
بھارت کے سابق کپتان اور 1983 ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے رکن سنیل گواسکر نے کہا کہ ”یہ شاید کرکٹ کی تاریخ کا سب سے افسردہ دن ہے۔“
انہوں نے کہا، ”زمین پر چلنے والا عظیم ترین کرکٹر ہم سے رخصت ہو گیا۔“
گواسکر کے بقول، ”سر گارفیلڈ سوبرز جیسے کرکٹر کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہر وہ چیز تھے، جس کا خواب ہم بچپن میں بیٹ یا گیند ہاتھ میں لیتے وقت دیکھتے ہیں۔“
بھارت کے عظیم بلے باز سچن ٹنڈولکر نے سوبرز کو ”واحد اور یکتا“ قرار دیتے ہوئے کہا، ”میں ان کے ساتھ گزاری ہوئی یادوں کو دہرا رہا ہوں۔ وہ ہمیشہ بے حد شفیق اور مہربان رہے۔“
بھارتی اسٹار ویرات کوہلی نے کہا کہ کرکٹ ”اپنے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک سے محروم ہو گئی ہے۔“
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”سر گارفیلڈ سوبرز، آپ سکون سے آرام کریں۔ آپ کی میراث آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔“
دنیا بھر کے کرکٹ بورڈز نے بھی بارباڈوس سے تعلق رکھنے والے اس عظیم آل راؤنڈر کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ آسٹریلیا، انگلینڈ، بھارت اور سری لنکا کے کرکٹ حکام نے انہیں کھیل کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے چیئرمین جے شاہ نے ایکس پر لکھا، ”ان کی بے مثال کامیابیوں اور کرکٹ کے لیے غیرمعمولی خدمات نے دنیا بھر میں کئی نسلوں کے کرکٹرز کو متاثر کیا۔“
کاؤنٹی کرکٹ میں بھی سوبرز کا کیریئر شاندار رہا۔ انہوں نے ناٹنگھم شائر کی نمائندگی کرتے ہوئے 7,041 رنز بنائے، جن میں 18 سنچریاں شامل تھیں، جبکہ 281 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ انہوں نے جنوبی آسٹریلیا کی جانب سے تین سیزن کھیلے اور 1963-64 شیفیلڈ شیلڈ میں سب سے زیادہ رنز بنانے اور سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی رہے۔
اپنے بین الاقوامی کیریئر میں سوبرز نے 26 ٹیسٹ سنچریاں اسکور کیں۔ 1958 میں پاکستان کے خلاف ان کی ناقابلِ شکست 365 رنز کی اننگز کئی برس تک ٹیسٹ کرکٹ کا سب سے بڑا انفرادی اسکور رہی، جسے 1994 میں برائن لارا نے عبور کیا۔