کاروبار اور معیشت

ایران امریکہ کشیدگی، سونے کی قیمتیں 6 ہفتوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن

  • اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 3,980.64 ڈالر فی اونس رہی
شائع اپ ڈیٹ

سونے کی قیمتیں جمعہ کو چھ ہفتوں کی سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن رہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں کو بڑھا دیا ہے جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ ہوا اور امریکہ میں شرحِ سود بلند رکھنے یا مزید بڑھانے کے امکانات مضبوط ہوئے۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 3,980.64 ڈالر فی اونس رہی تاہم اس سے قبل کاروبار کے دوران یہ یکم جولائی کے بعد کی کم ترین سطح تک گرگئی تھی۔ دوسری جانب اگست میں ڈلیوری کیلئے امریکی گولڈ فیوچرز 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 3,984.10 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔

تاہم رواں ہفتے سونے کی قیمت میں اب تک 3.4 فیصد کمی آ چکی ہے جو یکم جون کے بعد سب سے بڑی ہفتہ وار گراوٹ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات نے اس ہفتے جاری ہونے والے جون میں امریکہ کی توقع سے کم مہنگائی کے اعدادوشمار سے ملنے والی حمایت کو بھی پسِ پشت ڈال دیا۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹِم واٹرر نے کہا کہ اگرچہ سی پی آئی اور پی پی آئی کے اعداد و شمار تسلی بخش رہے لیکن اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں تیزی کا مطلب یہ تھا کہ ٹریڈرز مہنگائی میں کمی کے اعداد و شمار کا جشن منانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور موجود ہیں جبکہ افراطِ زر اور ییلڈز سے متعلق خدشات سونے کی قیمت کو اوپر جانے سے روکنے والی غالب قوتیں بنے ہوئے ہیں۔

جمعرات کو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا جس نے ایک ہفتے سے جاری محاذ آرائی کو شدید کردیا اور اس نے بڑی حد تک گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کو ختم کردیا ہے۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی محدود ترسیل کے باعث اس ہفتے اب تک تیل کی قیمتوں میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ تہران نے حوثی تحریک سے کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر کے برآمدی راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہے۔

تیل کی قیمتوں میں یہ تیزی مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ بھڑکانے اور شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بڑھانے کا خطرہ پیدا کررہی ہے۔

غیر منافع بخش سونا عام طور پر بلند شرح سود کے ماحول میں مشکلات کا شکار رہتا ہے کیونکہ سرمایہ کار ان اثاثوں کی طرف راغب ہوتے ہیں جو زیادہ منافع دیتے ہیں۔

ڈلاس فیڈرل ریزرو کی صدر لوری لوگن فیڈ چیئرمین کیون وارش کے نئے رفقاء کار میں سے پہلی شخصیت بن گئی جنہوں نے عوامی طور پر شرح سود میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیڈ کے وائس چیئر فلپ جیفرسن نے بھی اشارہ دیا کہ اگر قلیل مدت میں مہنگائی کی صورتحال میں بہتری نہ آئی تو وہ شرح سود بڑھانے کے حق میں ہوں گے۔

سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ٹریڈرز فی الحال دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 73 فیصد امکان کی توقع کررہے ہیں۔

دوسری جانب چاندی 0.6 فیصد کمی کے ساتھ 55.20 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.1 فیصد کمی کے ساتھ 1,599.17 ڈالر اور پیلاڈیم 0.4 فیصد نرمی کے ساتھ 1,244.16 ڈالر پر آگیا۔

یہ تینوں دھاتیں ہفتہ وار گراوٹ کی جانب گامزن ہیں۔