مارکٹس

شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کم، ڈالر ہفتہ وار کمی کی راہ پر گامزن

  • برطانوی پاؤنڈ 1.3476 ڈالر پر رہا اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی راہ پر ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکی ڈالر جمعہ کو بڑی حد تک مستحکم رہا، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس کی قدر میں کمی کا امکان ہے کیونکہ توقع سے کم امریکی مہنگائی کے اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے فوری شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کر دی ہیں۔ اس کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ڈالر کی طلب کو سہارا دیا۔

امریکا اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے جاری حملوں کے تبادلے نے گزشتہ ماہ ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً ختم کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1445 ڈالر پر ٹریڈ ہوا اور ہفتہ وار بنیاد پر 0.29 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے، جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3476 ڈالر پر رہا اور مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی راہ پر ہے۔

جاپانی ین 162.39 فی ڈالر پر برقرار رہا، جو رواں ماہ کے آغاز میں ریکارڈ ہونے والی تقریباً 40 سال کی کم ترین سطح 162.84 کے قریب ہے۔ اسی دوران ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 100.72 پر رہا اور ہفتہ وار 0.24 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جون میں امریکا میں ریٹیل فروخت معمولی بڑھی، جبکہ آن لائن خریداری میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد ماہرین نے دوسری سہ ماہی کی اقتصادی ترقی کے تخمینے بہتر کر دیے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو رواں ماہ شرح سود برقرار رکھے گا، تاہم نائب چیئرمین فلپ جیفرسن نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی میں جلد مزید بہتری نہ آئی تو شرح سود میں اضافے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق جولائی میں شرح سود بڑھنے کے امکانات 25 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد رہ گئے ہیں۔