دنیا

عمان کے ساحل کے قریب بحری جہاز پر حملے کے بعد لاپتا بھارتی شہری ہلاک، اہلِ خانہ کی تصدیق

  • 24 رکنی عملے میں 11 بھارتی شہری شامل تھے، جہاز کو "نامعلوم میزائل نما شے" نے نشانہ بنایا
شائع اپ ڈیٹ

عمان کے ساحل کے قریب تجارتی بحری جہاز جی ایف ایس گلیکسی پر حملے کے بعد لاپتا ہونے والا ایک بھارتی شہری ہلاک ہو گیا۔ اس کے سسر اور دبئی میں بھارتی قونصل خانے نے بدھ کو اس کی تصدیق کی ہے۔

30 سالہ ہیرمب کرمارکر قبرص کے پرچم بردار کنٹینر بردار جہاز پر بطور میرین انجینئر خدمات انجام دے رہے تھے، جسے اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔

قبرصی حکام کے مطابق 24 رکنی عملے کے اس جہاز، جس میں 11 بھارتی شہری بھی شامل تھے، کو ”نامعلوم پروجیکٹائل“ نے نشانہ بنایا۔

ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے انتباہ کے باوجود اپنا راستہ درست کرنے کے بجائے ایک غیر مجاز بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔

ہیرمب کرمارکر کے سسر ویویک ٹنڈن نے رائٹرز کو بتایا کہ جہاز چلانے والی کمپنی نے انہیں ان کے داماد کی موت کی اطلاع دی ہے۔

دبئی میں بھارتی قونصل خانے نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ ہیرمب کرمارکر کے اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں ہے اور متحدہ عرب امارات کے حکام اور شپنگ کمپنی کے ساتھ مل کر انہیں ہر ممکن معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ہیرمب کرمارکر گزشتہ تین روز کے دوران خطے میں ہلاک ہونے والے دوسرے بھارتی ملاح ہیں۔

منگل کے روز بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو بحری جہازوں پر حملوں کے دوران ایک اور بھارتی ملاح جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔

اس واقعے کے بعد نئی دہلی نے ایرانی نائب سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

ادھر تہران کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا کے ساتھ دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے علاوہ تمام بحری جہازوں کے لیے یہ آبی گزرگاہ کھلی ہے۔