بھارت میں کمسن بچی زیادتی کے بعد قتل، خواتین کے تحفظ پر پھر سوالات
- پولیس کے مطابق بچی رواں ماہ ایک دوست کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہ آ سکی
بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے قصبے باروئی پور میں 11 سالہ بچی کے اغوا، اجتماعی زیادتی اور قتل کے واقعے نے ایک بار پھر ملک میں خواتین اور بچوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق بچی رواں ماہ ایک دوست کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہ آ سکی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسے اغوا کرنے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، پھر زندہ حالت میں بوری میں بند کرکے تالاب میں پھینک دیا۔ اگلے روز اس کی لاش تالاب سے برآمد ہوئی، جس پر تشدد اور کاٹنے کے نشانات موجود تھے۔
بھارتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ 80 سے زائد ریپ کے واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے متعدد واقعات رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے۔
اس واقعے نے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے، کیونکہ مغربی بنگال میں خواتین کا تحفظ بی جے پی کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل تھا۔
دریں اثنا، راجستھان میں 12 سالہ بچی کے اغوا اور کئی روز تک اجتماعی زیادتی جبکہ غازی آباد میں 7 سالہ بچی سے زیادتی کے بعد قتل کے حالیہ واقعات نے بھی عوامی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف حکومت کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ پدرشاہی سوچ، خواتین کے خلاف امتیازی رویے، پولیس اور عدالتی نظام کی کمزوریاں اور انصاف میں تاخیر اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران بھارت میں 29,536 ریپ کے مقدمات درج کیے گئے، جبکہ بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت 69,191 مقدمات ریکارڈ کیے گئے، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
باروئی پور واقعے میں چار ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ایک مشتبہ ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنوں نے ماورائے عدالت ہلاکتوں پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے اقدامات انصاف کے نظام کو کمزور کرتے ہیں اور اصل مسئلے کا مستقل حل نہیں۔