اقوام متحدہ میں پاکستان کا پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے وسیع تر عالمی یکجہتی کا مطالبہ
- وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی فورم 2026 کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا قومی مؤقف پیش کیا
وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پائیدار ترقی پر منعقدہ ہائی لیول پولیٹیکل فورم 2026 کے وزارتی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیانیہ پیش کیا۔
اس موقع پر انہوں نے پائیدار ترقی کے ایجنڈا 2030 کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مضبوط عالمی تعاون، موسمیاتی انصاف اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
منگل کو جاری سرکاری بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 2030 تک صرف پانچ سال باقی رہ گئے ہیں اور دنیا کو معاشی جھٹکوں، موسمیاتی آفات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ جیسے بڑھتے ہوئے چیلنجز کا سامنا ہے، جنہوں نے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی پیش رفت کو سست کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی تبدیلی کے منصوبے اُڑان پاکستان کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس منصوبے کی بنیادی توجہ معاشی ترقی کو تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے، موسمیاتی لچک کو مضبوط بنانے، توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ایسی جامع ترقی کو فروغ دینے پر ہے جس میں کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی گزشتہ دو سالوں کی معاشی اصلاحات نے ملکی معیشت کو استحکام بخشا اور معاشی اعتماد بحال کیا ہے۔
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے لاحق خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلابوں نے موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) کی فوری ضرورت کو واضح کیا ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کی بحالی، پانی کے تحفظ، صاف توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ترقی کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔
سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ اس کی یکطرفہ معطلی 24 کروڑ پاکستانیوں کے پانی کے تحفظ اور روزگار کو خطرے میں ڈالتی ہے اور یہ بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
عالمی شراکت داری کی تجدید پر زور دیتے ہوئے احسن اقبال نے بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات، آسان شرائط پر قرضوں تک بہتر رسائی، موسمیاتی مالیاتی وعدوں کی تکمیل اور ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے اختراعی مالیاتی میکانزم کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا اختتام اس بات پر کیا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے فوری، اجتماعی عمل اور مضبوط عالمی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔