امریکی مہنگائی کے اہم اعدادوشمار جاری ہونے سے قبل منگل کو عالمی کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر مجموعی طور پر مستحکم رہا، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا۔ دوسری جانب جاپانی ین ممکنہ حکومتی مداخلت کے باوجود دباؤ کا شکار رہا۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی قدر کو ین، یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ظاہر کرتا ہے، 0.04 فیصد کمی کے ساتھ 101.23 پر آگیا۔
سرمایہ کاروں کی نظریں امریکا کے جون کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کے اعدادوشمار پر مرکوز ہیں، جبکہ بدھ کو پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی کانگریس میں پہلی ششماہی گواہی بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے فیس وصول کی جائے گی۔ اس اعلان اور ایران و امریکا کے درمیان حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ اگر مہنگائی مرکزی بینک کے 2 فیصد ہدف سے نمایاں بلند رہی تو آئندہ دنوں میں شرح سود میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنیادی افراطِ زر کی ماہانہ شرح 0.3 فیصد یا اس سے زیادہ رہی تو جولائی میں بھی شرح سود بڑھانے کا امکان مضبوط ہو جائے گا۔
کرنسی مارکیٹ میں یورو 1.1388 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3355 ڈالر تک مضبوط ہوا، جبکہ جاپانی ین تقریباً 162.38 فی ڈالر پر برقرار رہا۔ حکومتی پنشن فنڈز کی سرمایہ کاری سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث ین میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
دیگر کرنسیوں میں آسٹریلوی ڈالر 0.6921 امریکی ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5776 امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ کرپٹو مارکیٹ میں بٹ کوائن 62,455 ڈالر اور ایتھر 1,783 ڈالر پر ٹریڈ کرتا رہا۔