حکومت سے اندرونی آبی گزرگاہوں کے ٹرانسپورٹ کی اتھارٹی کے قیام کا مطالبہ
- آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے، میاں زاہد حسین
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئل فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مستقل انلینڈ واٹر وے ٹرانسپورٹ اتھارٹی قائم کرے، ریگولیٹری فریم ورک کو حتمی شکل دے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کرے۔
انہوں نے کہا کہ اندرونی آبی ٹرانسپورٹ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس پر مقررہ وقت کے اندر مؤثر عملدرآمد کیا جائے۔پاکستان کا مال برداری کا نظام مکمل طور پر مہنگے سڑکوں کے نیٹ ورک پر منحصر ہے، جسے اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آبی ٹرانسپورٹ ایک عملی معاشی ضرورت ہے جو لاجسٹکس کے اخراجات، ایندھن کی بچت اور برآمدات کو بہتر بنا سکتی ہے۔ 2023 میں 90 فیصد سے زائد مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوئی، جس سے سڑکوں کی حالت خراب اور کاروباری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹک سے کراچی تک اسٹریٹجک آبی راستے کی ترقی سستا راہداری فراہم کر سکتی ہے۔ حکومت نے پالیسیوں میں اس کی اہمیت تسلیم کی ہے مگر عملدرآمد تاحال انتہائی سست ہے۔