دنیا

آسیان میانمار سے روابط کے مستقبل پر خصوصی اجلاس میں غور کرے گا، فلپائن

  • فلپائن کی وزارتِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ میانمار بدستور آسیان کا اہم رکن ہے، جبکہ اتوار کو ہونے والا اجلاس غیر رسمی نوعیت کا ہوگا
شائع اپ ڈیٹ

فلپائن نے جمعہ کو کہا کہ آسیان کے وزرائے خارجہ اور میانمار کے وزیرِ خارجہ کے درمیان آئندہ ہونے والے اجلاس میں میانمار کی خانہ جنگی اور پانچ برس بعد تنظیم کے ساتھ اس کے تعلقات کی بحالی پر غور کیا جائے گا۔

11 رکنی جنوب مشرقی ایشیائی تنظیم آسیان کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے فلپائن اتوار کو بینکاک میں ہونے والے اس اجلاس کی صدارت کرے گا۔ 2021 کی فوجی بغاوت اور اس کے بعد شروع ہونے والے تنازع کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ میانمار کے اعلیٰ سفارت کار اور آسیان کے وزرائے خارجہ آمنے سامنے ملاقات کریں گے۔ اسی بغاوت کے بعد حکمران فوجی قیادت کو تنظیم کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت سے محروم کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ چھ دہائیوں میں سے پانچ دہائیوں تک اقتدار پر قابض رہنے والی فوج کی جانب سے 2021 میں اقتدار پر قبضے کے بعد ملک میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن نے ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا، جس میں اندازاً ایک لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ فوج پر وسیع پیمانے پر مظالم کے الزامات بھی عائد کیے جاتے ہیں۔

تاہم میانمار کی فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

رواں سال ہونے والے انتخابات کے بعد اس وقت ملک پر بظاہر ایک سویلین حکومت قائم ہے، جبکہ سابق آرمی چیف اور فوجی جنتا کے سربراہ من آنگ ہلائنگ صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔

فلپائن کی وزارتِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ میانمار بدستور آسیان کا ایک اہم رکن ہے اور اتوار کو ہونے والا اجلاس غیر رسمی نوعیت کا ہوگا، جس میں میانمار کے وزیرِ خارجہ کو ملک کی موجودہ صورتحال پر اپنے ہم منصبوں کو بریفنگ دینے کا موقع ملے گا۔

وزارت نے اپنے بیان میں کہا، ”توقع ہے کہ اجلاس میں میانمار کے ساتھ آسیان کے روابط، تشدد کے خاتمے، متعلقہ فریقوں کے درمیان بامعنی مذاکرات اور انسانی امداد کے حوالے سے میانمار کی جانب سے ممکنہ عملی اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔“

امن منصوبے پر میانمار کا اعتراض

صدر من آنگ ہلائنگ آسیان کے ساتھ جاری تعطل ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں انہوں نے گزشتہ ہفتے کسی آسیان رکن ملک کا اپنا پہلا سرکاری دورہ بھی کیا۔

آسیان کی جانب سے میانمار کو تنظیم کی اعلیٰ سطح کی سرگرمیوں سے الگ رکھنے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ من آنگ ہلائنگ فوجی بغاوت کے بعد آسیان کے ساتھ طے پانے والے پانچ نکاتی اتفاقِ رائے پر عمل درآمد میں ناکام رہے۔ اس منصوبے میں کشیدگی کم کرنے اور متحارب فریقوں کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے تھے۔

تاہم دونوں فریقوں کے تعلقات معمول پر لانے کی کوششوں کو اس وقت مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، کیونکہ میانمار کی فوج کی حمایت یافتہ پارلیمنٹ میں اس امن منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں اسے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور آسیان کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

فوج کے ترجمان اخبار گلوبل نیو لائٹ آف میانمار نے جمعہ کو دو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا کہ پارلیمنٹ کے ارکان نے ایک قرارداد کی توثیق کی ہے، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آسیان کے مؤقف کا ازسرِنو جائزہ لے اور اسے چیلنج کرے۔

اخبار کے مطابق ”بحث کے دوران دونوں ایوانوں کے بیشتر ارکان نے اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سیاسی پیش رفت اور نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد آسیان کو میانمار کے بارے میں اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے۔“