وفاقی حکومت کا قرض مئی 2026 کے اختتام تک 81.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔ اگرچہ یہ ایک بہت بڑی رقم ہے لیکن اس سے بھی زیادہ اہم وہ نظام ہے جو مسلسل اس قرض کو پیدا بھی کررہا ہے اور اپنے اندر جذب بھی کررہا ہے۔ حکومت بڑے پیمانے پر مقامی بینکوں سے قرض لیتی ہے، بینک سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات (سکوک/ٹریژری پیپرز وغیرہ) پر مبنی منافع بخش بیلنس شیٹس تیار کرتے ہیں جبکہ مرکزی بینک کو ایسے مالیاتی نظام میں لیکویڈیٹی کا انتظام کرنا پڑتا ہے جو بتدریج حکومت کی قرض لینے کی ضروریات کے گرد منظم ہوتا جارہا ہے۔

جون 2025 میں وفاقی حکومت کا قرض 77.9 ٹریلین روپے تھا جو مئی 2026 تک بڑھ کر 81.9 ٹریلین روپے ہوگیا، یعنی گیارہ مہینوں میں 4.1 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کا زیادہ تر حصہ مقامی قرضوں پر مشتمل ہے جو 54.5 ٹریلین سے بڑھ کر 58.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ روپے کے اعتبار سے بیرونی قرض 23.4 ٹریلین سے بڑھ کر 23.8 ٹریلین روپے ہوگیا۔ اگرچہ قرضوں میں اضافہ زیادہ تر اندرونی ذرائع سے ہوا تاہم اسے اطمینان کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ اصل مسئلہ قرضوں کا ملکی مالیاتی نظام میں حد سے زیادہ ارتکاز ہے۔

مقامی قرض اگرچہ زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں مالیاتی نظام کو درپیش خطرات ملک کے اندر منتقل ہو جاتے ہیں۔ مقامی بینکوں پر حد سے زیادہ انحصار کرنے والی حکومت کو بیرونی مالیاتی دباؤ تو نسبتاً کم محسوس ہوتا ہے مگر اس سے ملکی سطح پر مالیاتی بالادستی مزید گہری ہو جاتی ہے، اس صورتِ حال میں بینکوں کی بیلنس شیٹس کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں سے وابستہ ہو جاتا ہے، حکومتی سیکیورٹیز کی مارکیٹ لیکویڈیٹی کے انتظام کا مرکزی ذریعہ بن جاتی ہے جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی مالیاتی نظام کے بنیادی کردار کے بجائے ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔

آئی ایم ایف بھی حکومت، بینکوں اور مرکزی بینک کے باہمی انحصار کے تناظر میں اس مسئلے کی مسلسل نشاندہی کرتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان کو اس چکر کو سمجھنے کے لیے کسی بیرونی تشخیص کی ضرورت نہیں۔ حکومت کو مسلسل بڑے پیمانے پر مالی وسائل درکار ہوتے ہیں، اس لیے بینک حکومتی سیکیورٹیز کا بڑا حصہ خرید لیتے ہیں کیونکہ سرکاری قرضہ جاتی دستاویزات زیادہ لیکویڈ، بڑے پیمانے پر دستیاب، ضابطہ جاتی اعتبار سے موزوں اور تجارتی لحاظ سے منافع بخش ہوتی ہیں۔اس کے بعد مرکزی بینک ایسے مالیاتی نظام میں جہاں حکومتی قرض سب سے بڑا مالیاتی اثاثہ بن چکا ہو، لیکویڈیٹی، ضمانتی اثاثوں اور مانیٹری پالیسی سے متعلق پیدا ہونے والے اثرات اور نتائج کا انتظام کرتا ہے۔

عام طور پر کراؤڈنگ آؤٹ کا تصور صرف اثر کے پہلے مرحلے کو بیان کرتا ہے۔ حکومت کا حد سے زیادہ قرضہ بلاشبہ نجی شعبے کے لیے قرض کی گنجائش کو کم کرتا ہے لیکن اس سے بڑا مسئلہ ساختی نوعیت کا ہے۔ حکومتی قرضوں سے وابستگی پورے مالیاتی نظام کی بنیاد بن جاتی ہے۔ سرکاری سیکیورٹیز بینکوں کے لیے آمدنی کا سب سے آسان ذریعہ، پسندیدہ لیکویڈیٹی اثاثہ، ضمانت (کولیٹرل) کا بنیادی وسیلہ اور منی مارکیٹ کی سرگرمیوں کا مرکزی حوالہ بن جاتی ہیں۔یوں ریاست مالیاتی اور بینکاری نظام کا محور بن جاتی ہے اور بینکوں کی بیشتر سرگرمیاں حکومتی مالی ضروریات کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔

قرضوں کی میچورٹی کا پروفائل اس دباؤ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ قلیل مدتی مقامی قرض جون 2025 میں 8.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر مئی 2026 تک 10.7 ٹریلین روپے ہو چکا ہے۔ صرف مارکیٹ ٹریژری بلز کا حجم 8.6 ٹریلین سے بڑھ کر 10.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صورتحال رول اوور (قرضوں کی تجدید) کی ضروریات کو بڑھاتی ہے اور ریاست کو ری فنانسنگ (نئے قرض سے پرانا ادا کرنا) اور شرح سود کے خطرات سے دوچار کرتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ قلیل مدتی مقامی کاغذاتِ مالیت پر بار بار انحصار، مسلسل ری فنانسنگ کو مالیاتی انتظام کا ایک مستقل طریقہ کار بنا دیتا ہے۔ بنیادی خسارہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے، بس اس کی قیمت کا دوبارہ تعین کرکے اسے آگے بڑھا دیا جاتا ہے۔

یہ صورتحال ایک تنگ اور محدود دائرہ کار کو جنم دیتی ہے۔ خسارہ برقرار رہتا ہے، حکومت قرض لیتی ہے، بینک ان سرکاری کاغذات کو جذب کر لیتے ہیں اور مرکزی بینک اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ ہر فریق اپنے ترغیبات کے مطابق منطقی ردعمل دے رہا ہے۔ وزارتِ خزانہ کو خسارے کو پورا کرنا ہے، بینک کم انڈر رائٹنگ لاگت کے ساتھ زیادہ منافع بخش سرکاری اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں اور مرکزی بینک کو نظام کو رواں دواں رکھنا ہے۔ اس سب کا مجموعی نتیجہ ایک ایسے مالیاتی نظام کی شکل میں نکلتا ہے جو معیشت کو مالی اعانت فراہم کرنے کے بجائے ریاست کو فنڈز فراہم کرنے میں زیادہ کارگر بن چکا ہے۔

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کا حجم جون 2025 میں 35.0 ٹریلین روپے سے کم ہو کر مئی 2026 تک 34.6 ٹریلین روپے پر آ گیا جبکہ حکومتی اجارہ سکوک 5.2 ٹریلین سے بڑھ کر 7.5 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔اسلامی قرضہ جاتی منڈی کے فروغ سے سرمایہ کاروں کے لیے متبادل سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں اور مالیاتی منڈی مزید وسعت اختیار کرسکتی ہے، تاہم صرف ایک مالیاتی آلے سے دوسرے میں منتقلی کو مالیاتی استحکام نہیں کہا جا سکتا۔ بنیادی حقیقت بدستور برقرار ہے کہ حکومت اب بھی ملکی مالیاتی بچتوں کا ایک بڑا حصہ اپنے قرضوں کی مالی اعانت کے لیے جذب کر رہی ہے۔

روپے کی قدر کے لحاظ سے بیرونی قرضوں کی صورتحال ان کے اصل ڈھانچے کے مقابلے میں زیادہ پرسکون دکھائی دیتی ہے۔ بیرونی قرضے بظاہر نسبتاً محدود نظر آتے ہیں جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیرِ نظر مدت کے دوران شرح مبادلہ میں نہ ہونے کے برابر تبدیلی آئی ہے۔ درحقیقت طویل مدتی بیرونی قرضوں میں کمی کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی بیرونی قرضوں میں 210 ارب روپے سے 2.7 ٹریلین روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس پیمانے کی تبدیلی کو بیرونی میچورٹی رسک (مدت کی تکمیل کے خطرے) میں واضح بگاڑ قرار دینے سے پہلے اس کا درست تجزیہ اور مطابقت ضروری ہے۔ یہ ٹائمنگ، درجہ بندی، یا رول اوور (قرضوں کی تجدید) کے طریقہ کار کی عکاسی بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اہم نکتہ بدستور وہی ہے: بیرونی قرضوں کا مجموعی عدد اتنا پرسکون ہے کہ وہ خطرے کی پوری کہانی بیان کرنے سے قاصر ہے۔

حکومت اور بینکوں کا باہمی گٹھ جوڑ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ جب بینکوں کی منافع بخشیت کا انحصار براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز پر ہو تو بینکاری کے شعبے کی مضبوطی حقیقت سے زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے۔ بینک بظاہر لیکویڈ، منافع بخش اور بہتر کیپٹلائزڈ نظر آتے ہیں لیکن اس مضبوطی کا ایک حصہ اس فرضی مفروضے پر قائم ہے کہ حکومتی قرضے عملی طور پر خطرے سے پاک ہیں۔ یہ مفروضہ نجی شعبے کو قرض دینے کی صلاحیت کو فروغ دینے کے دباؤ کو کم کر دیتا ہے، شعبہ جاتی انڈر رائٹنگ کے لیے حوصلہ افزائی کو کمزور کرتا ہے اور بینکوں کی بیلنس شیٹس کو پیداواری معیشت کے بجائے ریاست کے گرد پھیلنے کی ترغیب دیتا ہے۔

بینکوں کی جانب سے سرکاری کاغذاتِ مالیت کو ترجیح دینے کی وجہ صرف آسانی نہیں ہے۔ وہ اسے اس لیے ترجیح دیتے ہیں کیونکہ متبادل راستے مہنگے اور غیر یقینی ہیں۔ ایس ایم ای قرضوں کے لیے دستاویزی عمل، وصولیوں کا نظام، ضمانتوں کا نفاذ، شعبہ جاتی معلومات، کریڈٹ ہسٹری اور پروویژننگ کا نظم و ضبط درکار ہوتا ہے۔ زراعت کے شعبے میں کیش فلو پر مبنی تشخیص اور فیلڈ لیول پر معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح برآمدی فنانسنگ کے لیے ورکنگ کیپٹل کی سمجھ اور کارکردگی کے خطرات کا اندازہ لگانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس، سرکاری کاغذاتِ مالیت کے لیے صرف ایک نیلامی کیلنڈر کافی ہوتا ہے۔

اس صورتحال کے اثرات محض قرضوں کے حجم تک محدود نہیں رہتے۔ بینک ایس ایم ایز، زراعت، برآمد کنندگان اور درمیانے درجے کی کمپنیوں کے لیے قرضوں کی تشخیص کی مناسب صلاحیت پیدا نہیں کر پاتے۔ قرض لینے والے اپنی باقاعدہ کریڈٹ ہسٹری نہیں بنا پاتے۔ خطرے کے مطابق قیمت کا تعین غیر ترقی یافتہ رہتا ہے۔ ضمانتوں کا نفاذ کمزور رہتا ہے اور دستاویزات کی جانچ پڑتال سطحی رہتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بینک منافع کماتے رہتے ہیں اور حکومت کو مالی معاونت ملتی رہتی ہے جبکہ مجموعی معیشت نجی شعبے کو فراہم کردہ محدود قرضوں کی بنیاد پر ہی کام کرتی رہتی ہے۔

مرکزی بینک کا پہلو بھی اسی قدر اہم ہے۔ حکومت کی جانب سے مرکزی بینک سے براہِ راست قرض لینے پر پابندی نے رسمی فریم ورک کو تو بہتر بنایا ہے لیکن مالیاتی تسلط ختم ہونے کے بجائے اس کے ذرائع تبدیل ہوگئے ہیں۔ اب حکومت براہِ راست مرکزی بینک سے قرض لینے کے بجائے کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے جبکہ مرکزی بینک اس قرض لینے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لیکویڈیٹی (نقد رقم) کے اثرات کو سنبھالتا ہے۔ یہ انتظام بظاہر زیادہ شفاف ضرور ہے لیکن انحصار بدستور نظام میں پیوست ہے۔

اخراجات میں اصلاحات اس مسئلے کا دوسرا گمشدہ پہلو ہے۔ قرضوں پر ایمانداری سے بات تب تک ممکن نہیں جب تک ان اخراجات کے ڈھانچے پر بات نہ کی جائے جو ان قرضوں کو جنم دیتے ہیں۔ سود کی ادائیگی ماضی کے خساروں کا مجموعی نتیجہ ہے جبکہ یہ خسارے ایک ایسے مالیاتی فریم ورک کی عکاسی کرتے ہیں جو بار بار ہونے والے اخراجات کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنے، نقصانات کو محدود کرنے، سرکاری اداروں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے اور وفاقی و صوبائی مالیاتی ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنے میں جدوجہد کررہا ہے۔ قرضوں کی سروسنگ (سود اور اصل زر کی ادائیگی) ایک گہری اخراجاتی ناکامی کی ظاہری علامت ہے۔

پالیسی ردِعمل کو روایتی اقدامات کی فہرست سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو بلاشبہ طویل مدت کے قرضوں، کم ری فنانسنگ دباؤ، وسیع ٹیکس بیس، اخراجات میں نظم و ضبط، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور وفاق و صوبوں کے درمیان بہتر مالیاتی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس چکر سے نکلنے کے لیے مالی شعبے میں ایک زیادہ مخصوص حکمتِ عملی درکار ہے جس کے تحت بینکوں کی جانب سے حکومتی قرضوں کو جذب کرنے کے موجودہ ماڈل سے نکل کر وسیع تر بچتوں کے نظام اور خطرات کی منتقلی پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کی طرف بتدریج منتقلی کی جائے۔

اس کا مطلب ہے کہ غیر بینکنگ ادارہ جاتی مانگ کو سنجیدگی سے تعمیر کیا جائے۔ پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، میوچل فنڈز اور کیپٹل مارکیٹ کے دیگر ذرائع کو طویل مدتی سرکاری سیکیورٹیز کا بڑا ہولڈر بننا چاہیے جبکہ بینکوں کو بتدریج سرکاری رسک کے مستقل گودام بننے کے بجائے نجی قرضوں کے موجد، تقسیم کاراور ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے پیش گوئی کے قابل بینچ مارک سپلائی، مارکیٹ میکنگ کا نظم و ضبط، ثانوی مارکیٹ میں قابلِ اعتماد لیکویڈیٹی اور ایسے ریگولیٹری اقدامات کی ضرورت ہے جو محض بینکنگ سیکٹر کے انکشاف کا نام بدلنے کے بجائے حقیقی سرمایہ کاروں کے تنوع کی حوصلہ افزائی کریں۔

دوسرا اہم راستہ پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ کی ترقی ہے۔ پاکستان کو ایسے قابلِ سرمایہ کاری نجی قرضوں کے کاغذات کی ضرورت ہے جنہیں بینکوں کے علاوہ دیگر ادارے بھی اپنے پاس رکھ سکیں۔ یہ مقصد محض بینکوں سے یہ مطالبہ کرنے سے حاصل نہیں ہوگا کہ وہ ایس ایم ایز کو زیادہ قرض دیں، اس کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہوں گے۔

81.9 ٹریلین روپے کا قرضوں کا ذخیرہ تو صرف ایک ابتدائی نکتہ ہے۔ اصل مسئلہ وہ مالیاتی اور حکومتی ڈھانچہ ہے جو اس صورتحال کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان بدستور ایک ایسے ماڈل پر چل رہا ہے جہاں اصلاحات کی جگہ قرضے لے لیے جاتے ہیں، ایک وسیع سرمایہ کار بنیاد کی جگہ بینکوں کو بٹھا دیا جاتا ہے اور معاشی ایڈجسٹمنٹ کی جگہ قرضوں کی ری فنانسنگ (بار بار نیا قرض لے کر پرانا اتارنا) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ جب تک یہ ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوتا، قرضوں کا انتظام ہر آنے والے فنانسنگ سائیکل میں اسی مسئلے کو صرف آگے دھکیلتا رہے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026