اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1700 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
- دوپہر 12 بجے تک بینچ مارک انڈیکس182,989.51 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو بہتر معاشی اشاریوں کے باعث مثبت رجحان واپس آ گیا ہے جس کی بدولت ٹریڈنگ کے پہلے سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔
دوپہر 12 بجے تک بینچ مارک انڈیکس 1,729.84 پوائنٹس یا 0.95 فیصد اضافے سے 182,989.51 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کی کمپنیوں، او ایم سی اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں ہر سطح پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ حبکو ، ماری، او جی ڈی سی ، پی او ایل ، پی پی ایل ، پی ایس او ، ایس ایس جی سی ، ایم سی بی، میزان بینک اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
پاکستان نے مالی سال 2025-26 کے دوران 41.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلاتِ وصول کی ہیں جو ملک کی تاریخ میں کسی بھی سال کے دوران موصول ہونے والی سب سے زیادہ سالانہ رقم ہے۔
یاد رہے کہ جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ بھرا تجارتی سیشن دیکھا گیا، تاہم مارکیٹ نے اپنے ابتدائی نقصانات کا بیشتر حصہ بحال کر لیا۔ اس بحالی میں بلیو چپ (مضبوط اور مستحکم) کمپنیوں کے شیئرز میں منتخب خریداری نے مدد کی جس سے مارکیٹ کو بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والی شدید فروخت کے بعد سنبھلنے میں مدد ملی۔
جمعرات کو بینچ مارک 100 انڈیکس 369.69 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 181,259.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص بازاروں میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کی قیادت چِپ اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ کمپنیوں نے کی۔ سرمایہ کاروں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کی بحالی میں تعطل کے خدشات کو نظر انداز کردیا حالانکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جوابی حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا تھا۔
یہ باہمی حلوں کا سلسلہ تین ہفتے پرانی نازک جنگ بندی کو مزید کمزور کر چکا ہے جس سے تیل کی قیمتوں، افراطِ زر اور عالمی شرح سود کے منظرنامے پر دوبارہ خدشات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز رواں ہفتے 5 فیصد اضافے کے ساتھ مئی کے اوائل کے بعد اپنی بہترین ہفتہ وار کارکردگی دکھانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ تاہم 76.03 ڈالر فی بیرل کی قیمت پر برینٹ کروڈ نے ان تمام تر فوائد کا بیشتر حصہ گنوا دیا ہے جو فروری کے اواخر میں تنازعہ شروع ہونے کے وقت اسے حاصل ہوئے تھے۔
جاپان کا نکئی 1.8 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی جو کہ اے آئی ریلی کا مرکز ہے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2.4 فیصد اوپر گیا۔ چپ بنانے والی صفِ اول کی کمپنیاں ایس کے ہائینکس اور سام سنگ دونوں میں 3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ تائیوان کی مارکیٹیں بند تھیں۔
اس کے نتیجے میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا وسیع تر انڈیکس ایم ایس سی آئی 0.76 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے