پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے سفارشات جلد پیش کی جائیں گی، اویس لغاری
- پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور علاقائی روابط کے شعبوں میں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، ویبینار سے خطاب
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کو پاکستان اور روس کے دیرینہ تعلقات کی نمایاں علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسٹیل مل کی بحالی کے لیے سفارشات جلد پالیسی سازوں کو پیش کی جائیں گی، جو اس اہم صنعتی منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے کی نئی کوششوں کا اشارہ ہے۔
انہوں نے یہ بات جمعرات کو یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز ماسکو (یو ڈبلیو سی ایم) اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) کے زیر اہتمام منعقدہ ویبینار ”پاکستان-روس: تجارت، تعلیم اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کا فروغ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات میں اعتماد، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے مشترکہ عزم کی بنیاد پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، تعلیم اور علاقائی روابط کے شعبوں میں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے، جبکہ مضبوط اقتصادی تعاون اور بہتر ٹرانسپورٹ روابط کے ذریعے دونوں ممالک کی باہمی تجارت آئندہ چند برسوں میں ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
وزیر توانائی نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت 243.412 ملین ڈالر رہی، جو دونوں ممالک کی حقیقی استعداد سے کہیں کم ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2024 میں یہ تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی، تاہم بعد ازاں ادائیگیوں کے نظام، بینکاری ذرائع، مالیاتی انتظامات اور شپنگ سے متعلق مسائل کے باعث اس میں کمی آگئی۔
انہوں نے کہا کہ یوریشیائی رابطہ کاری اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ وسطی ایشیا کے ذریعے تاریخی زمینی تجارتی راستوں کی بحالی اور انٹرنیشنل نارتھ-ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کو فعال بنانا پاکستان اور روس کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ 2030 تک پاکستان-روس اقتصادی تعاون پروگرام دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا اور کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
علاقائی روابط کے حوالے سے وزیر توانائی نے بتایا کہ پاکستان نے جون 2024 میں بیلاروس-روس-قازقستان-ازبکستان-افغانستان-پاکستان ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ کوریڈور سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جبکہ روس کے ساتھ ریلوے تعاون کا بھی ایک معاہدہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ریلوے رابطہ قائم ہونے سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جبکہ کوئٹہ-تفتان ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن بھی ممکن ہو سکے گی۔
وزیر توانائی نے مزید بتایا کہ اس وقت پاکستان اور روس کے درمیان براہِ راست فضائی پروازیں موجود نہیں، تاہم دونوں ممالک جلد ان کی بحالی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی ایئرلائنز، خصوصاً کارگو پروازوں کے لیے، کوڈ شیئرنگ اور ٹرانزٹ روٹس کے انتظامات پر بھی غور کر سکتی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اور روس موجودہ ہائیڈرولک اور ریفائننگ سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں باہمی تعاون کے خواہاں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026