اے ڈی بی نے معاشی ترقی کا تخمینہ کم کرکے 3.7 فیصد کردیا،مہنگائی بڑھنے کا خدشہ
- مشرقِ وسطیٰ تنازع کے منفی اثرات قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو بلند رکھ سکتے ہیں
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے مالی سال 2027 کیلئے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیشگوئی کم کرکے 3.7 فیصد کردی ۔ بینک نے اس کی وجوہات میں توانائی کی بلند لاگت اور کارکنوں کی ترسیلاتِ زر پر بڑھتے دباؤ کو قرار دیا ہے۔ اے ڈی بی نے مالی سال 2026 اور 2027 دونوں کے لیے مہنگائی کی پیشگوئی میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے جس کی وجوہات میں خوراک اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ممکنہ اثرات شامل ہیں۔
ایشین ڈویلپمنٹ آؤٹ لک (جولائی 2026) میں اے ڈی بی نے کہا ہے کہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معیشت میں 3.7 فیصد اضافہ ہوا۔ بینک کے مطابق معاشی نمو کو صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی مضبوط کارکردگی کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے میں معمولی بہتری سے بھی سہارا ملا۔
تاہم بینک نے خبردار کیا ہے کہ مالی سال 2027 میں معاشی ترقی کی رفتار محدود رہنے کی توقع ہے کیونکہ توانائی کی بلند قیمتیں اور ترسیلاتِ زر کی مد میں کم آمدن معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔
اے ڈی بی نے پاکستان کے لیے مالی سال 2026 کی مہنگائی کی پیشگوئی بڑھا کر 7.2 فیصد کردی ہے جس کی وجہ خوراک اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں قرار دی گئی ہیں۔بینک نے مالی سال 2027 کے لیے بھی مہنگائی کا تخمینہ بڑھا کر 8.3 فیصد کردیا ہے۔ اے ڈی بی نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مسلسل منفی اثرات قیمتوں میں اضافے کے دباؤ کو بلند رکھ سکتے ہیں۔
یہ تازہ ترین اندازے ان چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا سامنا معیشت کو جاری بحالی کے باوجود ہے اور توقع ہے کہ افراطِ زر کا دباؤ اور بیرونی خطرات درمیانی مدت تک تشویش کے اہم نکات بنے رہیں گے۔