مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات، سونے کی قیمتیں گرگئیں
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں مزید 0.3 فیصد کمی ریکارڈ
سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو گراوٹ دیکھی گئی، اس سے قبل گزشتہ سیشن میں سونے کی قیمتیں ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آگئی تھیں۔ اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان بنا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کا عبوری معاہدہ ختم ہو چکا ہے جس نے افراطِ زر اور شرحِ سود میں اضافے سے متعلق خدشات کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔
بدھ کو ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر گرنے کے بعد جمعرات کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں مزید 0.3 فیصد کمی واقع ہوئی اور جی ایم ٹی کے مطابق صبح 1:05 بجے یہ 4,066.24 ڈالر فی اونس رہی جبکہ اگست میں فراہمی کے لیے امریکی گولڈ فیوچر بھی 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 4,077 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
امریکی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس نے ایران پر تازہ حملوں کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا ہے۔ یہ کارروائی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد کی گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دستخط کی گئی مفاہمتی یادداشت اب ختم ہو چکی ہے۔
بدھ کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد جمعرات کو بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں تازہ ترین کشیدگی کے ردعمل میں ڈالر اور اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ دیکھی گئی۔
مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ تیل کی منڈی کتنی تیزی سے افراطِ زر اور اتار چڑھاؤ کے خدشات کو دوبارہ بھڑکا سکتی ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے گزشتہ ماہ ہونے والے اجلاس میں بھی بلند افراطِ زر کے حوالے سے خدشات میں اضافہ دیکھا گیا۔ اجلاس میں حکام نے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش کی پیروی کرتے ہوئے پالیسی بیان کو مزید مختصر رکھا، حالانکہ اس بات پر تشویش موجود تھی کہ قیمتوں میں اضافہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے اور اس کے لیے شرحِ سود میں اضافے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
اگرچہ سونے کو مہنگائی کے خلاف ایک محفوظ اثاثہ سمجھا جاتا ہے لیکن بلند شرحِ سود عام طور پر اس غیر منافع بخش اثاثے پر بوجھ بنتی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بدھ کو 2026 کے لیے اپنی عالمی نمو کی پیش گوئی کو دوبارہ کم کر کے 3.0 فیصد کر دیا ہے۔
بینک آف امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فیڈرل ریزرو کے سخت مالیاتی موقف کے پیشِ نظر 2026 کے لیے سونے کی اوسط قیمت کی پیش گوئی میں 14 فیصد کمی کر کے اسے 4,360 ڈالر فی اونس کررہا ہے۔