پاکستان میں مالیاتی وفاقیت سے متعلق ورلڈ بینک کی رپورٹ کو چاہیے کہ وہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر معمول کی سیاسی بحث کے بجائے ایک زیادہ سنجیدہ اور جامع مکالمے کو فروغ دے۔ 2010 کے بعد طے پانے والے مالیاتی انتظام نے پاکستان کے وفاقی ڈھانچے میں واقعی ایک اہم اور بامعنی تبدیلی کی بنیاد رکھی۔
اس نظام نے صوبوں کے مالیاتی اختیارات میں توسیع کی، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو آئینی تحفظ فراہم کیا اور ملک کو حد سے زیادہ مرکزیت پر مبنی مالیاتی ڈھانچے سے دور کیا، تاہم رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد تشکیل دیا گیا مالیاتی نظام اب بھی نامکمل ہے، اس پر یکساں طور پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور اس کے نتائج و کارکردگی کے ساتھ مؤثر ربط بھی کمزور ہے۔
اصل مالی معاہدہ ایک قابلِ جواز اصول پر مبنی تھا۔ اگر اہم اخراجاتی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی جانی تھیں تو قابلِ تقسیم محاصل (ڈویزیبل پول) میں سے وسائل کا زیادہ حصہ بھی انہی ذمہ داریوں کے ساتھ صوبوں کو منتقل ہونا چاہیے تھا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے مشترکہ قانون ساز فہرست ختم کر دی گئی اور متعدد اہم شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کے سپرد کر دی گئیں۔ بعدازاں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی ٹیکس محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے فارمولے میں صرف آبادی کو بنیاد بنانے کے بجائے دیگر عوامل کو بھی شامل کیا گیا۔ اصولی طور پر اس تبدیلی کا مقصد اخراجاتی ذمہ داریوں کو حکومت کی اس سطح کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا جو عوام کو خدمات کی فراہمی کے زیادہ قریب ہے۔
عملدرآمد کے مرحلے میں یہ نظام اتنا مربوط ثابت نہ ہو سکا۔ صوبوں کو مالی وسائل میں بڑا حصہ تو مل گیا مگر وفاق نے اختیارات کی منتقلی کے مطابق اپنے اخراجات میں متناسب کمی نہیں کی۔ ورلڈ بینک کی یہ نشاندہی اسی بنیادی عدم توازن کو اجاگر کرتی ہے کہ 2010 سے 2024 کے دوران صوبائی آمدن، جس میں وفاقی منتقلیاں بھی شامل ہیں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 4 فیصد سے کم سے بڑھ کر اوسطاً 6.5 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ وفاقی اخراجات میں اسی تناسب سے کمی نہیں آئی۔ وفاق نے اپنی آمدن کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل تو کردیا، لیکن اس کے ساتھ اپنی اخراجاتی ذمہ داریوں میں مطلوبہ نوعیت کی تنظیمِ نو نہیں کی۔ اختیارات کی منتقلی یا مشترکہ دائرۂ کار والے شعبوں میں وفاقی وزارتوں، منصوبوں اور مالی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ازسرِنو ترتیب نہیں دیا گیا۔ نتیجتاً وفاقی حکومت ایک طرف محدود مالی وسائل کے ساتھ کام کررہی ہے جبکہ دوسری جانب اس پر اخراجات اور مالی ذمہ داریوں کا بوجھ بدستور غیر متناسب طور پر برقرار ہے۔
اس عدم توازن کی ذمہ داری صرف این ایف سی ایوارڈ پر عائد نہیں کی جاسکتی۔ درحقیقت یہ اختیارات کی منتقلی کے انتظامی اور اخراجاتی پہلوؤں کو مکمل طور پر نافذ نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔ محصولات کی تقسیم کا کوئی بھی نظام، خواہ وہ کتنا ہی فراخدلانہ یا محدود کیوں نہ ہو اپنے طور پر اختیارات اور ذمہ داریوں کی غیر واضح تقسیم کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا۔اگر وفاق ایسے شعبوں پر اخراجات کرتا رہے جو درحقیقت صوبوں کی ذمہ داری ہیں اور صوبے بھی منتقل کیے گئے اختیارات کے ساتھ مکمل مالی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے وفاقی رقوم پر انحصار جاری رکھیں، تو یہ نظام مسلسل مالی خسارے، دہرے انتظامی ڈھانچے اور احتساب کے خلا کو جنم دیتا رہے گا۔لہٰذا اصل مسئلہ صرف صوبوں کے حصے کے حجم کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اختیارات، مالی وسائل اور کارکردگی کے درمیان مضبوط اور مؤثر ربط موجود نہیں۔
صوبائی حکومتوں کے لیے بھی مطمئن ہو کر بیٹھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ساتویں این ایف سی کے بعد ملنے والی زیادہ مالی گنجائش کے تناسب سے عوامی خدمات کی فراہمی، محصولات کو بڑھانے یا مقامی سطح پر احتساب میں کوئی نمایاں بہتری نہیں دیکھی گئی۔ ورلڈ بینک کا یہ مشاہدہ کہ اخراجات کا ایک بہت بڑا حصہ جاری اخراجات، خاص طور پر تنخواہوں، پنشن اور انتظامی اخراجات کی نذر ہو گیا ہے، پاکستان کے عوامی مالیاتی نظام کی ایک جانی پہچانی کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ اضافی وسائل، بہتر اسکولوں، کلینکوں، میونسپل سروسز، زرعی توسیع، صفائی کے نظام یا مقامی انفرااسٹرکچر میں تبدیل ہونے سے بہت پہلے ہی تنخواہوں کے بل اور سیاسی طور پر محفوظ اخراجات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
یہ رجحان اختیارات کی منتقلی کے حق میں دی جانے والی ترقیاتی دلیل کو کمزور کرتا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا بیانیہ تب سب سے مضبوط ہوتا ہے جب (اختیارات کی) قربت پالیسی سازی، نفاذ اور احتساب کو بہتر بنائے۔ یہ تب کمزور پڑ جاتا ہے جب صوبائی حکومتیں ایک مرکزی وفاقی ریاست کے چھوٹے ورژن کی طرح برتاؤ کرنے لگیں جس میں مالیاتی اختیارات اوپر ہی برقرار رہیں جبکہ اضلاع اور مقامی ادارے صوابدیدی فیصلوں پر انحصار کرتے رہیں۔ شہری مالیاتی وفاقیت کو قابلِ تقسیم پول میں عمودی حصص کے ذریعے نہیں پرکھتے۔ وہ اسے روزمرہ کی عوامی خدمات کے معیار سے پرکھتے ہیں۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو 2010 کے بعد کا مالیاتی تصفیہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے۔
محصولات (ریونیو) کا پہلو بھی اتنا ہی مسئلہ ساز ہے۔ صوبوں کو اہم ٹیکس کے ذرائع، خاص طور پر خدمات پر سیلز ٹیکس پر زیادہ اختیارات تو مل گئے ہیں لیکن صوبوں کی اپنی آمدنی بڑھانے کی کوششیں اب بھی محدود ہیں۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس، شہری غیر منقولہ جائیداد پر ٹیکس اور صوبائی محصولات کے دیگر ذرائع اب بھی اپنی صلاحیت سے بہت کم کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس ناکامی کی ایک وجہ سیاسی معیشت ہے۔ جن ذرائع پر صوبوں سے ٹیکس لینے کی توقع کی جاتی ہے، ان میں اکثر بااثر مقامی حلقے شامل ہوتے ہیں: زمیندار، جائیداد کے مالکان، شہری اشرافیہ اور سروس سیکٹر کے مفادات۔ وفاقی محصولات میں سے اپنا حصہ محفوظ رکھنا صوبائی سطح پر ٹیکس کی سنجیدہ کوشش کرنے کی نسبت سیاسی طور پر زیادہ آسان ہے۔
یہ کمزوری مالی خودمختاری کی ایک نامکمل یا غیر متوازن شکل پیدا کرتی ہے۔ صوبے بجا طور پر اپنے مالیاتی حصے کے لیے آئینی تحفظ پر اصرار کرتے ہیں لیکن خودمختاری کا مطلب صرف وفاق سے رقوم کی منتقلی وصول کرنا نہیں ہو سکتا۔ اس میں اپنے صوبائی ذرائع پر ٹیکس لگانا، اخراجات کے انتخاب کا انتظام کرنا اور نتائج کے لیے قابلِ پیمائش ذمہ داری قبول کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایک ایسا صوبہ جو مکمل طور پر وفاقی منتقلیوں پر انحصار کرتا ہو اور اپنے ٹیکس کے ذرائع کا کم استعمال کرتا ہو، وہ میچیور مالی وفاقیت پر عمل نہیں کررہا۔ وہ دراصل ایک ایسی منتقلی پر انحصار کرنے والی ساخت کے اندر کام کررہا ہے جو احتساب اور اصلاحات کی ترغیب، دونوں کو محدود کر دیتی ہے۔
ٹیکس اتھارٹی کا بکھراؤ مشکل کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرچکا ہے۔ ٹیکس کے ذرائع وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار میں تقسیم ہونے کی وجہ سے کاروبار کو تعمیلی اخراجات ، درجہ بندی کے تنازعات اور انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اشیاء اور خدمات پر سیلز ٹیکس میں نمایاں ہوا ہے جہاں دائرہ اختیار کی علیحدگی نے اکثر ٹیکس کے عمل کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ایک وفاقی ڈھانچہ متعدد ٹیکس حکام کو جگہ دے سکتا ہے لیکن صرف اس صورت میں جب قوانین، طریقہ کار، تعریفیں، ڈیٹا سسٹمز اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں مناسب ہم آہنگی ہو۔ پاکستان نے ابھی تک اس سطح کی انتظامی یکجہتی پیدا کرنی ہے۔
لہٰذا اگلے این ایف سی ایوارڈ کو حصص کی روایتی لڑائی کے بجائے ترغیبات کی اصلاح کے طور پر مرتب کیا جانا چاہیے۔ آئین کا آرٹیکل 160(3A) صوبائی حصے میں پچھلے ایوارڈ سے کم کسی بھی قسم کی کٹوتی پر پابندی لگاتا ہے جس سے اس میں سادہ سی تنزلی سیاسی اور آئینی طور پر مشکل ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ایسی کوئی بھی تنزلی بنیادی کمزوریوں کو دور نہیں کرے گی۔ زیادہ مفید طریقہ کار یہ ہے کہ فارمولے اور اس کے ساتھ منسلک مالیاتی ڈھانچے کو نئے سرے سے تشکیل دیا جائے تاکہ منتقلی کا عمل اخراجات کی ضروریات، محصولات کی صلاحیت، محصولات جمع کرنے کی کوشش، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کی فراہمی میں کارکردگی کا عکاس ہو۔
اس کے لیے بہتر پیمائش کی ضرورت ہوگی۔ موجودہ بحث اب بھی مجموعی دعووں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے کہ کسے کتنا مل رہا ہے۔ اب اسے ٹھوس شواہد کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے کہ کون کس فنکشن کا ذمہ دار ہے، ہر سطح اس فنکشن پر کتنا خرچ کر رہی ہے، کیا نتائج حاصل ہو رہے ہیں اور کیا مالی اعانت اس سطح تک پہنچ رہی ہے جہاں خدمات درحقیقت فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسی معلومات کے بغیر این ایف سی مذاکرات اصلاحات کے بجائے سودے بازی کی ایک اور مشق بن کر رہ جانے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ پاکستان کو مالیاتی وفاقیت کے ایک ایسے ڈھانچے کی ضرورت ہے جو حقیقی ضرورت اور عادی انحصار، برابری اور استحقاق اور خودمختاری اور احتساب سے دوری کے درمیان فرق کر سکے۔
مقامی حکومتیں اس بحث کا مرکزی نقطہ ہیں۔ 18ویں ترمیم نے منتخب مقامی حکومتوں کی ضرورت کو تسلیم کیا تھا لیکن صوبائی سطح سے نیچے مالیاتی ڈھانچہ اب بھی کمزور ہے۔ ’صوبائی فنانس کمیشنز مالیاتی تقسیم کے باقاعدہ، پابند اور قابلِ اعتماد آلات نہیں بن سکے۔ اضلاع اور مقامی ادارے اب بھی صوبائی صوابدید، تاخیر سے ہونے والی منتقلیوں، محصولات جمع کرنے کے کمزور اختیارات اور غیر مستحکم ادارہ جاتی انتظامات کے رحم و کرم پر ہیں۔ عملی طور پر، اختیارات کی منتقلی اکثر صوبائی دارالحکومت تک پہنچ کر ہی رک گئی ہے۔
ایک فعال صوبائی فنانس کمیشن نظام کو چاہیے کہ وہ اضلاع اور مقامی حکومتوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے شفاف اور کثیر الجہتی فارمولے کا استعمال کرے۔ آبادی، غربت، رقبہ، آبادی کی کثافت، محصولات کی صلاحیت، خدمات کی فراہمی میں خلا اور پسماندگی جیسے عوامل کو اس فارمولے میں شامل ہونا چاہیے۔ کارکردگی کے اشاریے بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں احتیاط سے ڈیزائن کیا جائے اور وہ تاریخی محرومیوں کے شکار پسماندہ اضلاع کے لیے سزا نہ بن جائیں۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مقامی سطح پر مالیاتی گنجائش میں پیش گوئی پیدا کی جائے، ساتھ ہی بہتر انتظامیہ کے لیے ترغیبات کو بھی برقرار رکھا جائے۔ ایسے ڈھانچے کے بغیر، صوبائی حکومتیں اختیارات کی منتقلی کے فوائد تو حاصل کرتی رہیں گی لیکن اس کے بنیادی منطقی تقاضوں کو عوام کے سب سے قریب تر سطح تک پہنچانے سے گریزاں رہیں گی۔
وفاقی حکومت کو بھی مسئلے کے اپنے حصے کا سامنا کرنا چاہیے۔ این ایف سی کے بارے میں شکایات تب تک قابلِ یقین نہیں ہو سکتیں جب تک مرکز ان شعبوں میں اخراجات جاری رکھے جو صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔ منتقل شدہ شعبوں میں وفاقی وزارتوں، پروگراموں اور ترقیاتی منصوبوں کو عقلی بنیادوں پر استوار کرنا مالیاتی درستی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مرکز کو اپنی حقیقی وفاقی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے: میکرو اکنامک استحکام، دفاع، خارجہ امور، بین الصوبائی رابطہ، قومی انفرااسٹرکچر، ریگولیٹری معیارات اور برابری کے لیے معاونت۔ صوبائی دائرہ اختیار میں متوازی ڈھانچے چلانا صرف اس عدم توازن کو گہرا کرتا ہے جسے وفاق اب درست کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اٹھارویں آئینی ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کا مقصد پاکستان کو ایک زیادہ متوازن وفاقی نظام کی جانب لے جانا تھا، لیکن صرف مالی وسائل کی منتقلی سے کوئی وفاقی نظام مؤثر انداز میں نہیں چل سکتا۔ مالی وسائل کو ذمہ داری سے، ذمہ داری کو اختیارات سے اور اختیارات کو احتساب سے منسلک ہونا چاہیے۔ پاکستان نے ان میں سے پہلی کڑی یعنی مالی وسائل کی منتقلی کو تو کافی مضبوط بنایا ہے مگر باقی روابط کو اسی تناسب سے مستحکم نہیں کیا جا سکا۔ اسی لیے ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کو وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک اور بے نتیجہ سیاسی کشمکش کا ذریعہ بنانے کے بجائے این ایف سی نظام میں سنجیدہ اصلاحات کے آغاز کا موقع سمجھنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026