مارکٹس

پاکستان نے عالمی کیپٹل مارکیٹوں میں یورو بانڈ، سکوک، ڈالر سے طے شدہ روپے سے منسلک بانڈز کا اجراء شروع کر دیا

  • وزیرِ خزانہ نے ایس ایم ایز کو درکار بینک قرضوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ٹاسک فورس قائم کر دی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ حکومت نے عالمی سرمایہ منڈیوں میں یورو بانڈز اور سکوک کے اجرا کے ذریعے نئی قرضہ جاتی مالی معاونت حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، جبکہ پہلی بار ڈالر میں تصفیہ ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز بھی متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

اس مقصد کے لیے وزارتِ خزانہ نے عالمی سرمایہ کاری بینکوں، مالیاتی اداروں اور دیگر ممکنہ شرکا کو ریکویسٹ فار پروپوزلز (آر ایف پیز) جاری کر دی ہیں، جن میں بانڈز کی ساخت، متوقع قیمت (شرح منافع) اور ممکنہ بولی کے حجم (مالیت) سے متعلق تجاویز طلب کی گئی ہیں۔

ریکویسٹ فار پروپوزلز (آر ایف پی) سرمایہ کاری بینکوں اور مالیاتی اداروں کو جاری کیا جانے والا ایک باضابطہ دعوت نامہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے انہیں بانڈز کے اجرا کے انتظام، لیڈ مینیجر یا مالیاتی مشیر کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے اپنی تجاویز جمع کرانے کی دعوت دی جاتی ہے۔

اس عمل کے نتیجے میں عالمی بانڈز کے اجرا کے لیے مالیاتی مشیروں، لیڈ مینیجرز اور کنسورشیم کا تقرر کیا جائے گا۔

کراچی میں پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 (پی بی ایس 26) سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ اور سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا، ”ہم نے ابھی سکوک، یورو بانڈز اور پہلی مرتبہ ڈالر میں تصفیہ ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز کے لیے آر ایف پیز جاری کیے ہیں، کیونکہ ہم دوبارہ عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی چاہتے ہیں اور مستقبل میں اپنے بین الاقوامی قرضوں کی میعاد کو طویل کرنا چاہتے ہیں۔“

انہوں نے کہا، ”میرے نزدیک ان میں سے زیادہ تر آلات موجودہ قرضوں کے متبادل ہوں گے۔ یہ اضافی قرض نہیں ہوگا، بلکہ ہم پرانے قرضوں کو کس طرح نئے مالیاتی ذرائع سے تبدیل کرتے ہیں، یہ آئندہ حکمت عملی کا اہم حصہ ہوگا۔“

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے چار سال بعد عالمی سرمایہ منڈیوں میں واپسی کا آغاز اپریل 2026 میں یورو بانڈ کے کامیاب اجرا سے کیا، جس میں سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی کے باعث حکومت نے گرین شو آپشن استعمال کرتے ہوئے اجرا کا حجم بڑھا کر 75 کروڑ ڈالر کر دیا تھا۔

گرین شو آپشن (جسے اوور الاٹمنٹ آپشن بھی کہا جاتا ہے) یورو بانڈ کے اجرا سے متعلق انڈر رائٹنگ معاہدے کی ایک شق ہوتی ہے، جس کے تحت اگر سرمایہ کاروں کی طلب غیرمعمولی طور پر زیادہ ہو تو اجرا کنندہ، مثلاً حکومت یا کوئی کمپنی، پہلے سے طے شدہ حجم سے زیادہ مالیت کے بانڈز جاری کر سکتا ہے۔

مئی 2026 میں اس کے بعد پاکستان نے پہلی مرتبہ 25 کروڑ ڈالر مالیت کا پانڈا بانڈ جاری کیا، جسے سرمایہ کاروں کی جانب سے پانچ گنا زائد طلب موصول ہوئی، جبکہ حکومت نے تین سالہ مدت کے لیے تاریخ کی کم ترین شرح پر قرض حاصل کیا۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو بینکوں سے درکار قرضوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ”ایس ایم ایز کو، خاص طور پر بینکوں سے، مطلوبہ مالی سہولتیں میسر نہیں آ رہیں۔“

انہوں نے کہا، ”ہم بڑے کاروباری اداروں کا خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ایس ایم ایز کے لیے بھی مناسب مالی وسائل مختص ہونا چاہییں۔ آئندہ ایس ایم ایز کی مالی معاونت محض دعووں تک محدود نہیں رہ سکتی اور نہ ہی اسے صرف دو یا تین بینکوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ یہ پورے بینکاری شعبے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔“

وزیرِ خزانہ کے مطابق ایس ایم ای فنانس ٹاسک فورس کی سربراہی ایس بی پی کرے گا، جبکہ اس میں پی بی اے، سمیڈا، ایوان ہائے صنعت و تجارت اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ نمائندے شامل ہوں گے۔ ٹاسک فورس ایس ایم ایز کے لیے بینک قرضوں کی فراہمی بہتر بنانے اور پورے بینکاری شعبے میں قرضوں تک رسائی بڑھانے کے لیے قابلِ عمل سفارشات مرتب کرے گی۔

انہوں نے کہا، ”حکومت جہاں ضرورت ہوگی وہاں جزوی ضمانتی اسکیموں کا دائرہ مزید وسیع کرے گی، بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کے لیے، تاکہ نجی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے رواں بجٹ میں فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ برآمدی شعبوں کے لیے ضرورت کے مطابق رعایتی مالی سہولتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔“

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے مقامی بینکوں سے قرض لینے پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے مالیاتی ذرائع متعارف کرائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بینکاری شعبے سے بڑے پیمانے پر قرض لینے پر طویل عرصے سے یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ اس سے نجی شعبے کے لیے قرضوں کی دستیابی متاثر ہوتی ہے، کیونکہ بینکوں کے وسائل کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں میں صرف ہو جاتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایس بی پی نے ”انویسٹ پاک“ کے نام سے ایک نیا ڈیجیٹل سرمایہ کاری پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے کمپنیاں اور انفرادی سرمایہ کار براہِ راست سرکاری سیکیورٹیز، جیسے ٹی بلز، میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے درمیانی مدت کی ٹیکس حکمتِ عملی متعارف کرانے کا بھی اعلان کرتے ہوئے کہا، ”پالیسیوں میں تسلسل انتہائی اہم ہے۔ ان شاء اللہ، ہم رواں سال درمیانی مدت کی ٹیکس حکمتِ عملی پیش کریں گے، کیونکہ کاروباری ادارے اس وقت تک مؤثر سرمایہ کاری نہیں کر سکتے جب تک انہیں آئندہ چار سے پانچ برس کی ٹیکس پالیسی کا واضح خاکہ معلوم نہ ہو۔“

انہوں نے مزید کہا، ”ٹیکس پالیسی آفس اس حکمتِ عملی پر فعال انداز میں کام کر رہا ہے اور اسے کاروباری برادری سمیت تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباروں اور بعض شعبوں پر پڑنے والے غیرمتناسب ٹیکس بوجھ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔“

محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس انتظامی نظام کا نیا آپریٹنگ ماڈل بھی متعارف کرایا ہے۔

انہوں نے کہا، ”پارلیمنٹ نئے ڈھانچے کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ ٹیکس انتظامیہ اور ٹیکس دہندگان کے درمیان ایک نیا نظام ہوگا، جس میں انسانی مداخلت کو کم سے کم کر دیا جائے گا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”انکم ٹیکس افسر کے پاس تشخیص، احکامات، نوٹسز اور وصولیوں سے متعلق اختیارات کا ارتکاز ختم کر دیا جائے گا۔ یہ ایک بنیادی نوعیت کی اصلاح ہے۔ نیا نظام مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہوگا، جس میں ایل ایل ایم ماڈلز، الگورتھمک لرننگ اور مشین لرننگ سے استفادہ کیا جائے گا۔“