کاروبار اور معیشت

کمپیٹیشن کمیشن نے لوڈز لمیٹڈ میں ٹریٹ کارپوریشن کے حصص بڑھانے کی منظوری دے دی

  • تجزیے کے مطابق اس کاروباری لین دین سے مارکیٹ شیئرز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا
شائع اپ ڈیٹ

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے کمپٹیشن ایکٹ 2010ء کے تحت کیے گئے فیز-1 جائزے کے بعد ’ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے لوڈز لمیٹڈ کے اضافی عام حصص(آڈینیری شیئرز )خریدنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

جاری بیان کے مطابق ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ نے کمپٹیشن ایکٹ 2010ء کے سیکشن 11 کے تحت کمیشن کو انضمام سے قبل کی ایک درخواست جمع کرائی تھی، جس میں رائٹس ایشو کے ذریعے لوڈز لمیٹڈ کے اضافی عام حصص خریدنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔

ٹریٹ کارپوریشن لمیٹڈ ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے جو بنیادی طور پر ریزرز اور ریزر بلیڈز کی تیاری اور فروخت کے کاروبار سے وابستہ ہے، جبکہ اس کی ذیلی کمپنیاں بیٹریاں، مٹی کے ڈبے (کوروگیٹڈ باکسز)، صابن، طبی مرکبات، الیکٹرک بائیکس، رکشے اور افرادی قوت کے حل سمیت مختلف شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔

دوسری جانب لوڈز لمیٹڈ بھی ایک پبلک لسٹڈ کمپنی ہے جو پاکستان کی آٹوموٹو (گاڑیوں کی) صنعت کے لیے ریڈی ایٹرز، ایگزاسٹ سسٹمز اور میٹل شیٹ کے پرزے تیار اور فروخت کرتی ہے۔

اپنے جائزے کے دوران سی سی پی نے متعلقہ پروڈکٹ مارکیٹس کے طور پر ایگزاسٹ سسٹمز، ریڈی ایٹرز اور میٹل شیٹ کے پرزوں کی نشاندہی کی، جبکہ اس کے لیے متعلقہ جغرافیائی مارکیٹ پورا پاکستان ہے۔

کمیشن نے مشاہدہ کیا کہ ٹریٹ کارپوریشن اور لوڈز لمیٹڈ پہلے ہی ایک دوسرے سے منسلک کاروباری ادارے ہیں، جن میں مشترکہ انتظامیہ موجود ہے۔ مجوزہ کاروباری لین دین میں ٹریٹ کارپوریشن رائٹس ایشو کے ذریعے لوڈز لمیٹڈ میں اپنی شیئر ہولڈنگ بڑھا رہی ہے، جو کہ منسلک اداروں کے درمیان خالصتاً ایک ایکویٹی سرمایہ کاری ہے۔

مقابلے کے اس تجزیے میں یہ پایا گیا کہ اس لین دین سے فریقین کے مارکیٹ شیئرز میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور نہ ہی متعلقہ مارکیٹوں میں مقابلے کی فضا پر کوئی اثر پڑے گا۔

سی سی پی نے مزید نتیجہ اخذ کیا کہ حصص کی اس مجوزہ خریداری سے نہ تو مارکیٹ میں نئی کمپنیوں کے داخلے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوگی اور نہ ہی انضمام کرنے والے فریقین کی مارکیٹ پاور میں کوئی نمایاں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ اس لین دین سے متعلقہ مارکیٹ میں مقابلے پر کوئی منفی اثر پڑنے یا مسابقت میں کسی بڑی کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس بنیاد پر کمیشن نے واضح کیا کہ یہ مجوزہ لین دین کمپٹیشن ایکٹ 2010ء کے دائرہ کار میں کسی اجارہ داری کو جنم نہیں دیتا اور نہ ہی اسے مضبوط کرتا ہے لہٰذا ایکٹ کے سیکشن 31(1)(d)(i) کے تحت اس لین دین کی باقاعدہ اجازت دی جاتی ہے۔

یہ منظوری مارکیٹ میں مقابلے، کارکردگی اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انضمام کے بروقت جائزوں کے ذریعے قانونی کارپوریٹ تنظیمِ نواور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سی سی پی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔