حکومت سے صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ برآمدات کو بحال کرنے کے لیے پاکستانی صنعتوں کو حریف ممالک کے مساوی نرخوں پر توانائی فراہم کرے، ریفنڈز کی فوری ادائیگی یقینی بنائے، ٹیکس نظام کو آسان بنائے اور لاجسٹکس نظام کو بہتر کرے۔
اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو مصنوعات کے تنوع اور غیر روایتی منڈیوں تک مؤثر رسائی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو انجینئرنگ کے سامان، غذائی مصنوعات، آئی ٹی سروسز، ادویات، جراحی کے آلات، کھیلوں کا سامان، معدنیات اور ویلیو ایڈڈ زراعت کی برآمدات میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا تجارتی خسارہ ایک انتباہی علامت ہے، تاہم حکومت نے معیشت پر امریکہ-ایران جنگ کے منفی اثرات اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو مؤثر طریقے سے سنبھالا ہے۔ تاہم
انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافہ تشویشناک ہے، تاہم اسے امریکہ ایران جنگ کی وجہ سےعالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے درآمدی بل میں اضافے کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی تا جون 26-2025 کے دوران پاکستان کا اشیاء کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.471 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 32.467 ارب ڈالر تھا، اس طرح تجارتی خسارے میں 21.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ درآمدات 7.89 فیصد اضافے سے 69.597 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ برآمدات 5.97 فیصد کمی کے بعد 30.126 ارب ڈالر رہ گئیں۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان پیٹرولیم مصنوعات، ایل این جی، خام مال اور صنعتی انپٹس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر انرجی اور خام مال کی قیمتوں میں کسی بھی جھٹکے کا فوری اثر تجارتی توازن پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ نے ایندھن کی عالمی منڈی، شپنگ، توانائی کے تحفظ اور درآمدی لاگت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کی، جس کا اثر پاکستان کے مجموعی درآمدی بل پر بھی پڑا۔ انہوں نے کہا کہ جون 2026 خاص طور پر مشکل مہینہ رہا، جس میں درآمدات بڑھ کر 6.767 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026