دنیا

بھارت کے شورش زدہ شمال مشرقی علاقے میں گھات لگا کر حملہ، 2 فوجی ہلاک

  • 2023 میں شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

بھارت کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں پیر کو شدت پسندوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے۔ دور افتادہ ریاست میں تشدد کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

منی پور میں گزشتہ تین برس سے اکثریتی ہندو میتیئی اور اقلیتی عیسائی کوکی برادریوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں تشدد میں شدت آنے کے ساتھ ناگا گروپ بھی اس تنازع میں شامل ہو گیا ہے۔

2023 میں شروع ہونے والے اس تنازع میں اب تک 250 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ریاست کے وزیراعلیٰ یونم کھیم چند سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ نیم فوجی دستے آسام رائفلز کے دو اہلکار ضلع اوکھرول میں ”شدت پسندوں کے گھات لگا کر کیے گئے حملے“ میں ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا، ”قتل کے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کر کے ملک کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔“ تاہم حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

اوکھرول ضلع بنیادی طور پر عیسائی ناگا قبیلے کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

2023 میں تشدد شروع ہونے کے بعد منی پور میں کئی ماہ تک انٹرنیٹ سروس معطل رہی تھی، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60 ہزار افراد بے گھر ہو گئے تھے۔

مسلسل کشیدگی کے باعث ریاست کے ہزاروں مکین اب بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے ہیں۔

دریں اثنا، بھارتی حکومت نے ریاست میں معمولات بحال کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے گزشتہ ماہ انسداد دہشت گردی کے ادارے این آئی اے کے ذریعے تشدد، لوٹ مار اور ڈکیتی کے الزامات میں 10 افراد کو گرفتار کیا تھا۔