دنیا

ٹرمپ کی مداخلت پر فیفا نے بالوگن کو بیلجیئم کے خلاف کھیلنے کی اجازت دے دی

  • فیفا کے مطابق یہ اقدام فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

فیفا نے ایک غیر معمولی فیصلے کے تحت امریکی اسٹرائیکر فولارین بالوگن کی خودکار ایک میچ کی معطلی عارضی طور پر مؤخر کر دی، جس کے بعد وہ پیر کو بیلجیئم کے خلاف فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں کھیلنے کے اہل ہو گئے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ کرکے بالوگن کے ریڈ کارڈ پر نظرثانی کی درخواست کی۔

فیفا کے مطابق یہ اقدام فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق عدالتی ادارہ کسی بھی تادیبی سزا پر مکمل یا جزوی طور پر عمل درآمد عارضی طور پر معطل کر سکتا ہے۔ فیفا نے واضح کیا کہ بالوگن کا ریڈ کارڈ برقرار رہے گا، تاہم ایک سال کی آزمائشی مدت کے دوران معطلی پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ اگر اس عرصے میں وہ اسی نوعیت کی دوبارہ خلاف ورزی کرتے ہیں تو موجودہ سزا فوری نافذ ہو جائے گی، اس کے علاوہ نئی خلاف ورزی کی الگ سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

25 سالہ بالوگن کو بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں وی اے آر جائزے کے بعد حریف کھلاڑی طارق محریمووچ کے ٹخنے پر بوٹ مارنے کے باعث ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا، حالانکہ اس سے قبل وہ ٹورنامنٹ میں اپنا تیسرا گول بھی کر چکے تھے۔ امریکی کوچ موریسیو پوچیٹینو نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک بڑی ناانصافی کا خاتمہ قرار دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی سوشل میڈیا پر بالوگن کی واپسی کا جشن منایا۔

دوسری جانب رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن نے فیفا کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیفا ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 66.4 اور ورلڈ کپ کے ضوابط سے متصادم ہے، جن کے تحت ریڈ کارڈ پانے والا کھلاڑی خودکار طور پر اگلا میچ کھیلنے کا اہل نہیں رہتا۔ بیلجیئم نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں تمام قانونی آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔

اس فیصلے کے بعد امریکہ اور بیلجیئم کے درمیان پری کوارٹر فائنل سے قبل فیفا کے اختیارات اور اس کے تادیبی نظام پر نئی بحث چھڑ گئی ہے، جو ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے تنازعات میں سے ایک بن چکی ہے۔