کاروبار اور معیشت

سونے کے زیورات کی صنعت کا نظرثانی شدہ ویلیو ایڈیشن نارمز پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ

  • پاکستان کی سونے کے زیورات کی برآمدات کئی برسوں سے صرف 20 سے 30 ملین ڈالر تک محدود ہیں
شائع اپ ڈیٹ

ملک کی سونے کے زیورات تیار کرنے اور برآمد کرنے والی صنعت نے نظرثانی شدہ ویلیو ایڈیشن نارمز (وی اے این) پر تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

گولڈن آرٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف آرٹسٹک گولڈ جیولری کے نمائندے عارف پٹیل نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال کو ارسال کردہ خط، جس کی نقول وزیراعظم اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی بھیجی گئی ہیں، جس میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ برآمدات کے اہداف حاصل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ برآمدی صلاحیت رکھنے والی صنعتوں کو مسلسل نظر انداز کرنا اور ان کے جائز مطالبات پر توجہ نہ دینا ہے۔

خط کے مطابق پاکستان کی سونے کے زیورات کی برآمدات کئی برسوں سے صرف 20 سے 30 ملین ڈالر تک محدود ہیں، جبکہ بھارت کی برآمدات 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ترکیہ، ملائیشیا اور اٹلی نے کاروبار دوست پالیسیوں کے ذریعے اس شعبے میں نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

صنعت نے ایس آر او 760(I)/2013 کو اس شعبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2013 سے اب تک اس میں ترمیم کے لیے متعدد بار وزارت تجارت اور دیگر حکام سے رجوع کیا گیا، تاہم کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

بعد ازاں معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے سامنے رکھا گیا، جس نے 22 مارچ 2026 کو ویلیو ایڈیشن نارمز میں تبدیلی کی صنعت کی تجویز منظور کر لی، مگر تین ماہ گزرنے کے باوجود اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

وزارت تجارت کی دستاویزات کے مطابق 16 مارچ 2026 کو تمام متعلقہ اداروں، بشمول اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کے ساتھ مشاورتی اجلاس میں موجودہ نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔ عارف پٹیل نے تجویز دی کہ ویلیو ایڈیشن کو سونے کی عالمی قیمت کے فیصد کے بجائے فی گرام بنیاد پر مقرر کیا جائے، جس کی جیمز اینڈ جیولری کونسل اور اسٹیٹ بینک نے بھی حمایت کی۔

عارف پٹیل نے 4 جولائی 2026 کو لکھے گئے تازہ خط میں وزیر تجارت سے مطالبہ کیا ہے کہ قائمہ کمیٹی کے فیصلے پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے، بصورت دیگر برآمدات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026