کاروبار اور معیشت

ترسیلاتِ زر کی لاگت کا بوجھ بینکوں پر ڈالنے سے منافع متاثر ہوگا، بینکوں کا موقف

  • اسٹیٹ بینک: مالی سال 26 میں ترسیلاتِ زر پر 76 ارب روپے لاگت، آئندہ سال 85 سے 90 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان
شائع اپ ڈیٹ

حکومت کی جانب سے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کی لاگت بینکوں پر منتقل کرنے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس اقدام سے بینکوں پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا، جس سے ان کے منافع پر منفی اثر پڑے گا۔

پاکستان میں بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یکم جولائی 2026 سے ترسیلاتِ زر کی وصولی سے متعلق اخراجات خود برداشت کریں۔ اس سے قبل حکومت بینکوں کو سبسڈی فراہم کرتی تھی تاکہ رقوم بھیجنے والوں اور وصول کرنے والوں کے لیے ترسیلات کی لاگت صفر رہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعے کو بتایا تھا کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملک میں لانے پر 76 ارب روپے لاگت آئی۔

جون 2026 کی ترسیلات کے اعدادوشمار کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، تاہم توقع ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد کے مطابق، چونکہ مالی سال 2026-27 میں ترسیلاتِ زر بڑھ کر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، اس لیے انہیں ملک میں لانے کی لاگت بھی بڑھ کر 85 سے 90 ارب روپے تک جا سکتی ہے۔

پی بی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اور بینک الفلاح کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عاطف باجوہ نے ہفتے کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”بینکوں پر اضافی مالی بوجھ ڈال دیا گیا ہے، جس سے ان کے منافع پر اثر پڑے گا۔“ یہ پریس کانفرنس 7 اور 8 جولائی 2026 کو منعقد ہونے والے دوسرے پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کے اعلان کے لیے منعقد کی گئی تھی۔

عاطف باجوہ نے کہا، ”میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ترسیلاتِ زر میں اضافہ جاری رہے گا۔ پہلے جو لاگت حکومت برداشت کرتی تھی، اب وہ بینک ادا کریں گے۔“

انہوں نے واضح کیا کہ ترسیلات بھیجنے والوں (ریمیٹرز) اور وصول کنندگان (بینیفشریز) کے لیے لین دین کی لاگت بدستور صفر رہے گی، جیسا کہ حکومت کی جانب سے ختم کیے گئے سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام (ایس ڈی آرپی) اور ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم (ٹی ٹی سی آئی ایس) کے تحت تھی۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں کہا، ”اب ترسیلاتِ زر کی منتقلی کو بلا لاگت رکھنے کے لیے تمام اخراجات بینک خود برداشت کریں گے۔“

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کو اب مارکیٹ پر مبنی سروس بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مالیاتی ادارے کراس سبسڈی کے ذریعے ترسیلاتِ زر کی لاگت پوری کر سکتے ہیں، یعنی وہ دیگر بینکاری مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو استعمال کرتے ہوئے ترسیلاتِ زر کی خدمات کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں۔

جمیل احمد نے کہا، ”ترسیلاتِ زر اپنے ذریعے لانے کے لیے بینکوں کے درمیان سخت مسابقت موجود ہے۔ ترسیلات حاصل کرنے سے انہیں درآمدات و برآمدات کی تجارتی فنانسنگ کے کاروبار میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔“ انہوں نے زور دے کر کہا، ”ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتی ہیں۔“

ہفتے کو ہونے والی پریس کانفرنس میں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے چیئرمین اور بینک آف پنجاب کے چیف ایگزیکٹو ظفر مسعود نے کہا کہ بینک اس وقت ترسیلاتِ زر کی آمد کے لیے متبادل مالیاتی ماڈل پر مشاورت کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں حکومت کی سبسڈی اسکیموں سے بینکوں کو کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ یہ سہولت ترسیلات بھیجنے اور وصول کرنے والوں کو دی جاتی تھی تاکہ لین دین کی لاگت صفر رکھی جا سکے۔

ظفر مسعود نے کہا، ”ہم اس مسئلے کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ ہماری بھرپور کوشش ہوگی کہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر کی آمد پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو اور یہ بڑھ کر 42 سے 44 ارب ڈالر تک پہنچیں۔“

اس سوال پر کہ نئی لاگت کے باعث کیا بینکوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا، بینک الفلاح کے چیف ایگزیکٹو عاطف باجوہ نے کہا کہ اس کا انحصار ہر بینک کی صورتحال پر ہوگا۔

انہوں نے کہا، ”اگر ہمیں کچھ نقصان بھی برداشت کرنا پڑا تو بھی ہم ترسیلاتِ زر میں اضافہ یقینی بنائیں گے اور تجارتی فنانسنگ کے شعبے میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گے۔“

عاطف باجوہ نے مزید کہا، ”ہم ترسیلاتِ زر کے موجودہ ماڈل پر نظرثانی کر رہے ہیں تاکہ یہ بینکوں کے لیے بھی قابلِ عمل ہو۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ ہم ترسیلاتِ زر میں اضافہ یقینی بنائیں گے کیونکہ درآمدات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ ناگزیر ہیں۔ ترسیلاتِ زر ہمارے اور ہمارے صارفین دونوں کے لیے انتہائی اہم ہیں۔“

عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق پاکستان میں فہرست شدہ بینکوں نے 2026 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں مجموعی طور پر 173 ارب روپے منافع کمایا، جبکہ 2025 کے دوران ان کا مجموعی منافع 640 ارب روپے رہا تھا۔

پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کے بارے میں پی بی اے کے چیف ایگزیکٹو اور سیکریٹری جنرل منیر کمال نے بتایا کہ ایک درجن سے زائد غیر ملکی ماہرین کانفرنس سے خطاب کے لیے پاکستان آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ہم ان کے عالمی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کے بینکاری شعبے کو مزید مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کریں گے۔“

منیر کمال کے مطابق سنگاپور، امریکہ، برطانیہ، دبئی، بیلجیئم، بحرین، سعودی عرب اور ملائیشیا سمیت مختلف ممالک کے ماہرین سمٹ میں شرکت کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، کم لاگت رہائش اور زرعی شعبے کے لیے مالی سہولتوں کی فراہمی سمیت متعدد اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔