اے ڈی بی کی جانب سے علاقائی تکنیکی امداد پروگرام کی تجویز
- توقع ہے کہ یہ پروگرام پبلک فنانشل مینجمنٹ اور خریداری کے نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرے گا
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے بی ڈی) نے ایشیا اور بحر الکاہل میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اور پروکیورمنٹ (خریداری) کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک علاقائی تکنیکی امداد (ٹی اے) کے پروگرام کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان ان 40 سے زائد ترقی پذیر رکن ممالک میں شامل ہے جو شفافیت، احتساب اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کو بہتر بنانے کے لیے گورننس اصلاحات سے مستفید ہوں گے۔.
ایشیا اور بحرالکاہل میں امانتی (فِڈیوشری) جائزے اور ملکی نظام کو مضبوط بنانے کے عنوان سے شروع کیے جانے والے اس اقدام کے تحت 2026 سے 2028 کے دوران شریک ممالک میں 5 لاکھ امریکی ڈالر کی لاگت سے جامع فِڈیوشری جائزے، ادارہ جاتی اصلاحات اور استعداد کار بڑھانے کے اقدامات کی حمایت کی جائے گی۔
پاکستان کے لیے توقع ہے کہ یہ پروگرام پبلک فنانشل مینجمنٹ اور خریداری کے نظام میں کمزوریوں کی نشاندہی کرنے میں مدد کرے گا جبکہ بجٹ پر عمل درآمد، مالیاتی رپورٹنگ، داخلی کنٹرول، آڈیٹنگ اور خریداری کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے عملی اصلاحاتی روڈ میپ تیار کیے جائیں گے۔
یہ کثیر علاقائی تکنیکی امداد درج ذیل پانچ نکات کے ذریعے ترقی پذیر رکن ممالک کے پبلک فنانشل مینجمنٹ اور خریداری کے نظام کو مستحکم کرکے ایشیائی ترقیاتی بینک کے گورننس ایجنڈے کی حمایت کرے گی: (i) سال 2026 سے 2028 کے دوران شروع ہونے والے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی کی تیاری کے عمل سے ہم آہنگ ’فیڈوشری‘ (مالیاتی امانت داری) کے تشخیصی جائزے، (ii) ملکی، شعبہ جاتی، اور ایگزیکیوٹنگ/امپلیمنٹنگ ایجنسی کی سطح پر ترجیحی اقدامات کے لیے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے عملی راستے اور نفاذ میں معاونت، (iii) تشخیصی جائزوں، اصلاحاتی راستوں اور ایکشن پلانز سے منسلک ’اپلائیڈ لرننگ‘ (عملی تربیت) پر زور دیتے ہوئے ہدف پر مبنی صلاحیت سازی، (iv) ترقی پذیر رکن ممالک میں بہترین طریقہ کار اور حل کو وسعت دینے کے لیے علمی مواد اور باہمی سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا، اور (v) میڈولوجی فار اسیسنگ پروکیورمنٹ سسٹمز جیسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ بہترین طریقوں کو فروغ دے کر ترقی پذیر ممالک کے ملکی اور ایجنسی سطح کے نظاموں کی جانچ کے لیے استعمال ہونے والے عوامی خریداری کے تشخیصی ٹولز اور فریم ورکس کو بہتر بنانا۔
تمام ترقی پذیر رکن ممالک میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اور خریداری کے نظام میں مستقل کمزوریاں جو اکثر ملکی، شعبہ جاتی اور ایگزیکیوٹنگ/امپلیمنٹنگ ایجنسی کی سطح پر صلاحیتوں کی کمی کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہیں, ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد کی افادیت کو کم کرتی ہیں، لین دین کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے چلنے والے منصوبوں میں ملکی اور ایجنسی کے نظاموں پر انحصار کرنے کے امکانات کو محدود کرتی ہیں۔ یہ کمزوریاں کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹجی کے گورننس تشخیص کے معیار اور عملی افادیت کو بھی محدود کر دیتی ہیں، خاص طور پر جب مالیاتی تجزیہ بکھرا ہوا ہو یا اسے مضبوط بنانے کے قابلِ عمل راستوں میں تبدیل نہ کیا گیا ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026