اسٹیٹ بینک اقتصادی نمو کے حوالے سے پُراعتماد
- ہماری توجہ ظاہری بہتری کے بجائے معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے، جمیل احمد
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی موجودہ مالی سال میں مزید مستحکم ہوگی جس کے نتیجے میں اقتصادی شرح نمو میں اضافہ، افراطِ زر (مہنگائی) میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری متوقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری توجہ ظاہری بہتری کے بجائے معاشی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر مرکوز ہے اور طویل مدتی معاشی لچک (استقامت) صرف مضبوط میکرو اکنامک بنیادوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ مالی سال نمایاں میکرو اکنامک کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
عبوری تخمینوں کے مطابق، پاکستان کی معیشت مالی سال 26ء میں تقریباً 3.7 فیصد کی شرح سے بڑھی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک کے متوقع نمو کے ہدف (3.75 سے 4.75 فیصد) سے معمولی حد تک کم ہے تاہم انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جی ڈی پی کے حتمی اعداد و شمار پر نظر ثانی کے بعد اس میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو ابتدا میں توقع تھی کہ مالی سال 26ء میں اقتصادی نمو 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گی لیکن مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات اور زرعی پیداوار کی توقع سے کم ہونے کی وجہ سے یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا جس نے مجموعی معاشی کارکردگی پر دباؤ ڈالا۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ معاشی بحالی نے رفتار پکڑلی ہے، ہمیں توقع ہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی نمو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مالی سال 23ء کے معاشی بحران سے بہت آگے نکل چکا ہے، جب بیرونی کھاتوں کے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے درآمدات پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ مالی سال 24ء میں صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی اور گزشتہ مالی سال (26ء) کے اختتام تک یہ بہت زیادہ مستحکم ہو چکی ہے جو ملک کی بہتر ہوتی ہوئی میکرو اکنامک بنیادوں کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے شعبے نے بحالی کے حوصلہ افزا آثار دکھائے ہیں جس میں تقریباً 6 فیصد سالانہ نمو ریکارڈ کی گئی جبکہ کچھ مہینوں میں یہ شرح 10 فیصد کے قریب رہی جو صنعتی سرگرمیوں میں بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود مہنگائی قابو میں ہے۔ جون میں افراطِ زر کی شرح 11.1 فیصد رہی جبکہ مالی سال 26ء کے دوران اوسط افراطِ زر تقریباً 7.05 فیصد رہی جو کہ سٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے قریب ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی میں مزید کمی آئے گی جس کے سرکاری تخمینوں کا اعلان اگلی مانیٹری پالیسی میں کیا جائے گا۔
بیرونی شعبے میں بہتری کو اجاگر کرتے ہوئے جمیل احمد نے یاد دلایا کہ مالی سال 22ء میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب امریکی ڈالر تک بڑھ گیا تھا جس کی وجہ سے مالی سال 23ء میں درآمدات پر پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔ تاہم ملک نے مالی سال 25ء میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا جبکہ مالی سال 26ء کے پہلے گیارہ مہینوں میں بھی 255 ملین امریکی ڈالر کا سرپلس رہا جو کہ اسٹیٹ بینک کے جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد تک کے تخمینے کے عین مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بیرونی پوزیشن کافی مستحکم ہوئی ہے جس کے تحت مالی سال 26ء کی آخری سہ ماہی کے دوران 9 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود اسٹیٹ بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ یقین ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر دسمبر 2026 تک 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے ملک کے قرضوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً 100 ارب ڈالر پر مجموعی طور پر مستحکم رہا ہے جبکہ قرضوں کی ساخت میں قلیل مدتی سے طویل مدتی فنانسنگ کی طرف منتقلی کے ذریعے بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے ہمارے قرضوں کا معیار بہتر ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے آؤٹ لک کو بہتر کر کے ملک کی مستحکم بیرونی پوزیشن کا اعتراف کیا ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری متوقع ہے۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ ان کا بہاؤ مالی سال 23ء کے 27.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 25ء میں 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور مالی سال 26ء کے اختتام تک اس کے 41.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ترسیلاتِ زر مالی سال 27ء میں بھی بڑھتی رہیں گی جس کے لیے اسٹیٹ بینک نے تقریباً 44 ارب ڈالر کے حصول کا تخمینہ لگایا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026