کاروبار اور معیشت

آبنائے ہرمز میں میزائل سے نشانہ بننے والا سی ایم اے سی جی ایم کا جہاز ممکنہ طور پر اسکریپ کر دیا جائے گا، سی ای او

  • سی ایم اے سی جی ایم سان انتونیو پر حملے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں جہاز سے بحفاظت منتقل کر دیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

فرانسیسی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کا ایک کنٹینر بردار جہاز، جو مئی کے اوائل میں آبنائے ہرمز میں میزائل حملے کا نشانہ بنا تھا، اس قدر بری طرح تباہ ہو چکا ہے کہ کمپنی اسے ممکنہ طور پر اسکریپ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ بات کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے جمعہ کو بتائی ہے۔

سی ایم اے سی جی ایم سان انتونیو پر حملے میں عملے کے متعدد ارکان زخمی ہوئے، جنہیں بعد ازاں بحفاظت منتقل کر دیا گیا۔ یہ جہاز ایران جنگ کے دوران میزائل حملوں کی زد میں آنے والے درجنوں تجارتی جہازوں میں شامل ہے۔

کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو روڈولف سعدے نے جنوبی فرانس میں ایک کاروباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”جہاز کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا ہے کہ ہم غور کر رہے ہیں کہ آیا اسے اسکریپ کر دیا جائے۔“

انہوں نے بتایا کہ کئی ہفتوں تک آبنائے ہرمز میں پھنسے رہنے کے بعد سان انتونیو کو بحفاظت وہاں سے نکال لیا گیا ہے، تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

سعدے نے کہا کہ فی الحال کمپنی نے خلیج کی جانب دوبارہ جہاز بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، اور اس وقت ایرانی حکام ہی وہاں جہاز نہ بھیجنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

خاندانی افراد کے ساتھ مل کر سی ایم اے سی جی ایم کا انتظام سنبھالنے والے سعدے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی مخالفت کا اعادہ بھی کیا۔ یہ معاملہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں اب تک حل طلب امور میں شامل ہے۔

دنیا کی تیسری بڑی کنٹینر شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم کے ایران جنگ کے آغاز پر خلیج میں 14 جہاز موجود تھے، جب جنگ کے باعث یہ اہم آبی گزرگاہ تقریباً بند ہو گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے کئی جہاز اب خلیج سے نکل چکے ہیں، جبکہ کمپنی باقی ماندہ جہازوں میں سے مزید چار کو بھی وہاں سے نکالنا چاہتی ہے۔

اس ہفتے ایک فرانسیسی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں چیف ایگزیکٹو نے اشارہ دیا تھا کہ کمپنی کے بعض جہاز خلیج کے اندر ہی خدمات انجام دینے کے لیے مختص ہیں۔