پولٹری ایسوسی ایشن کا چوزوں پر ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ
- ٹیکس پولٹری صنعت پر ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن (پی پی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈے اولڈ چِک (ڈی او سی) پر عائد 10 روپے فی چوزہ کی مقررہ وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کی جائے کیونکہ یہ ٹیکس پولٹری صنعت پر ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے۔
ٹیکس حکام کو لکھے گئے ایک خط میں پی پی اے کے چیئرمین عبدالباسط نے کہا کہ پاکستان کا پولٹری بریڈنگ اور ہیچنگ شعبہ ڈے اولڈ چِکس کی شدید زائد پیداوار کے باعث ایک غیر معمولی بحران سے دوچار ہے۔
فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے پہلے شیڈول کی ٹیبل-I میں سیریل نمبر 64 شامل کرتے ہوئے ڈے اولڈ چِکس پر فی چوزہ 10 روپے کی مقررہ وفاقی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔
جب یہ ڈیوٹی نافذ کی گئی تھی تو ڈے اولڈ چِک کی مارکیٹ قیمت 200 روپے سے زائد فی چوزہ تھی جس کے باعث فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا بوجھ سپلائی ویلیو کا تقریباً 5 فیصد بنتا تھا۔ تاہم ضرورت سے زیادہ پیداوار کے باعث اب ڈی او سی کی قیمت تیزی سے کم ہو کر تقریباً 5 روپے فی چوزہ رہ گئی جبکہ فی چوزہ پیداواری لاگت اب بھی 90 سے 100 روپے کے درمیان ہے۔
ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ 10 روپے فی چوزہ کی مقررہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اب غیر موزوں ہوچکی ہے کیونکہ کئی مواقع پر یہ خود ڈے اولڈ چِک کی مارکیٹ قیمت سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ ڈی او سی کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف ای ڈی کو مقررہ رقم کے بجائے سپلائی کی مالیت (ویلیو آف سپلائی) سے منسلک کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026