حکومت سے ایران سے سستا تیل و گیس درآمد کرنے کے امکانات کا جائزہ لینے کا مطالبہ
- اس اقدام سے توانائی ضروریات کو کم قیمت پر پورا کرنے، زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کو کم کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے، اکرام راجپوت
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدراکرام راجپوت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مقامی کرنسی میں لین دین کے ذریعے ایران سے کم قیمت پر تیل اور گیس درآمد کرنے کے امکانات کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے ملک کی توانائی ضروریات کو کم قیمت پر پورا کرنے، زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کو کم کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اکرام راجپوت نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے بعد ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی ممکنہ نرمی سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیزی سے قدم اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک توانائی درآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو اپنے صنعتی، زرعی، نقل و حمل اور گھریلو شعبوں کو سہارا دینے کے لیے تیل اور گیس کے سستے ذرائع تک رسائی کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مقامی کرنسی میں لین دین پر مبنی باہمی فائدہ مند تجارتی میکانزم قائم کرنے سے نہ صرف درآمدی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان معاشی تعاون بھی بڑھے گا۔
اکرام راجپوت نے نشاندہی کی کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور جوابی کارروائیوں نے عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی، جس سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کے آثار نظر آرہے ہیں، اس لیے انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر پاکستانی صارفین، صنعتوں اور کاروباروں تک پہنچایا جانا چاہیے۔
کاٹی کے صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں بجلی، گیس اور مجموعی توانائی کی قیمتیں خطے میں سب سے زیادہ ہیں جو مقامی صنعتوں کی مسابقت کو متاثر کر رہی ہیں اور پیداواری لاگت میں اضافے کے ذریعے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026