دانستہ چشم پوشی
- ہمارے پاس علم ہے مگر دانشمندی نہیں، نااہل قیادت نے فرسودہ نظام کے تحت ناکارہ ڈگری ہولڈرز کی فوج کھڑی کر دی ہے
دیہی یا شہری ماحول میں رہنے والے کسی بھی فرد سے گفتگو کرلیں وہ نہ صرف سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل پر اپنی گرفت سے آپ کو حیران کر دے گا بلکہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے متعدد تجاویز دے کر سننے والے کو ششدر بھی کر دے گا۔ ہر شخص اس ضروری معلومات سے لیس ہے کہ ملک کو کیا بیماری لاحق ہے؟ اور ان کے پاس حل بھی موجود ہیں۔
ایک اختیاری بدقسمتی کے طور پر ہم طویل عرصے سے خود کو جان بوجھ کر لا علمی میں رکھنے کے انتخاب میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ہم اپنی ہی بظاہر دیدہ و دانستہ لا علمی کی سنگین صورتحال سے اکثر نیلسن آئی (جان بوجھ کر آنکھیں بند کرنا) اختیار کر لیتے ہیں۔ ہم سب کچھ جانتے ہیں لیکن ایک جاہل قوم کی طرح انکار کی حالت میں رہتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ قوم لا علمی اور عدم دلچسپی کے دو سب سے نرم تکیوں کا بھرپور استعمال کرنے کی عادی ہو چکی ہے۔ تھامس گرے نے کہا تھا کہ جہاں لا علمی نعمت ہو، وہاں دانا ہونا نادانی ہے۔ لا علمی اندھے پن کے مترادف ہے۔ چنانچہ لا علمی گستاخی کی ماں ہے۔ رابرٹ براؤننگ کے مطابق لا علمی معصومیت نہیں بلکہ گناہ ہے، اور جان بوجھ کر اختیار کی گئی لا علمی تو ایک سنگین گناہ ہے۔
اپنے درپیش مسائل کی طرف اس قوم کا رویہ نہ صرف ایک یونانی المیہ ہے بلکہ ایک واضح چیلنج بھی ہے۔ شاید ہمارے سامنے موجود چیلنجوں کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرح کا برتاؤ کرنا ہمارا رواج بن چکا ہے، ہم صرف مثبت پسندی کا چشمہ استعمال کرتے ہیں، جو بڑے پیمانے پر خود فریبی ہے۔ ہم سنگین حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ہماری سوچ مثبت ہے بلکہ اس لیے کہ ہم بطور شہری اور بطور معاشرہ اپنا تنقیدی احتساب کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
رجحان یہ بن چکا ہے کہ ان لوگوں پر تنقید کی جائے جو حقیقی طور پرتنقید کرتے ہیں۔ جو لوگ ہماری کوششوں میں خامیاں تلاش کرتے ہیں یا نئی اور تازہ پالیسیوں کے نام رکھنے پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، ہم فوری طور پر انہیں مایوسی پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہیں معاشرے کا منفی حصہ کہا جاتا ہے۔اگرچہ مثبت ذہن رکھنا بلاشبہ اہم ہے لیکن اپنے سامنے موجود حقائق سے بے خبر رہنا سراسر حماقت ہے۔ ریت میں گردن چھپانے کا یہ شتر مرغ سنڈروم اب دہائیوں سے رائج ہے۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسے ایک مسئلہ تسلیم کریں اور اس کی اصلاح کریں۔
ہم یقیناً کوئی معلومات سے محروم لوگ نہیں ہیں۔ ہمارے پاس معلومات اور علم دونوں موجود ہیں مگر جس چیز کی بڑی مقدار میں کمی ہے وہ ہے دانشمندی ۔ تمام شعبوں میں موجود نااہل قیادت نے سال بہ سال نااہل، بے ہنر، کم عقل اور غیر ہنرمند افراد کی نشوونما کو فروغ دیا ہے۔ تعلیم یافتہ لیکن ناکارہ لوگوں کی ایک بڑھتی ہوئی فوج ظفر موج ہے، ان کی تعلیم موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتی جو کچھ سکھایا گیا ہے وہ فرسودہ ہے۔ اس لیے ہر جگہ نااہل افراد اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔
ہمارا فخر ہماری نوجوان آبادی ہے۔ اگر ہم ”سماجی بم“ بنتے ہوئے اس بڑھتے ہوئے ممکنہ ٹیلنٹ کو بروئے کار نہ لائے تو یہ فخر بالکل بے معنی ہو جائے گا۔ نوجوانوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق تعلیم اور مہارتوں کی ضرورت ہے، انہیں دوبارہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہے، انہیں الگ انداز میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے نہ کہ انہیں تعلیم اور تربیت کے پرانے طریقہ کار کا قیدی یا غلام بنایا جائے۔ کیا یہ بات سب کو معلوم نہیں؟ معلوم ہے لیکن کیا اس کے بارے میں کوئی کچھ کر بھی رہا ہے؟ جواب نفی میں ہے۔مجموعی بجٹ میں تعلیم کے لیے مختص رقم سوشل ویلفیئر(سماجی بہبود) کے وظائف کے مقابلے میں پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ ایک دانا شخص نے لنکڈن کی ایک پوسٹ میں تبصرہ کیا کہ ”ہم طفیلیوں (مفت خوروں) کی افزائش کو فروغ دے رہے ہیں جس سے گداگری کی صنعت بڑھے گی“، ہم ان سوشل ویلفیئر پروگراموں میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ استعمال ہونے والے شناختی کارڈز اصل میں اعلیٰ سرکاری افسران کو ان ”وظائف“ کے وصول کنندگان کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔
ہم نے مسلسل عمل کی کمی کے باعث خود کو کم تر سمجھا ہے، جو کہ ہمارے خیالات اور اعمال کے الجھے ہوئے تالاب سے جنم لیتی ہے۔آڈٹ اپنی تعریف کے لحاظ سے ماضی کے لین دین کی توثیق یا اس کے برعکس کا ایک عمل ہے۔ پیپرا قوانین کے باوجود حکومتی سطح پر پری آڈٹ کے عمل کمزور ہیں۔ صرف دو دن پہلے تمام معروف اخبارات کی سرخیاں کئی سرکاری محکموں اور تنظیموں میں فراڈ، کرپشن یا ممکنہ کرپشن کے انکشافات سے بھری ہوئی تھیں۔ دوبارہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کوئی نئی دریافت ہے؟ قوم بدعنوانی کے ان رائج طریقوں سے لاعلم نہیں ہے۔ ہم نے بس اس تلخ حقیقت سے جان بوجھ کر چشم پوشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
مقصد کی یکسوئی کامیابی کا ایک یقینی نسخہ ہے۔ یہ بنیادی طور پر مقصد ہی ہے جو عمل کو چلاتا ہے۔ غلط فہمی پر مبنی مقصد جمود کا باعث بنتا ہے۔ مشترکہ ہدف سے وابستگی اور وفاداری معاشرے میں مختلف قوتوں کے درمیان جوڑنے والا عنصر بن سکتی ہے۔کارکردگی کا انحصار پختہ عزم اور رویے پر ہوتا ہے۔ بدلتا ہوا مقصد کسی ہدف کو پورا نہیں کرتا، یہ موسم کے بدلتے ہوئے پیٹرن کی طرح ہے۔
لوگ خود اپنے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ کوئی بھی دوسری کامیاب قوموں کے کتنے ہی خاکوں کا مطالعہ کر سکتا ہے لیکن بالاخر ایک ایسا جامع منصوبہ وضع کرنا ہوگا جو ملکی اہداف سے ہم آہنگ ہو اور مقامی ماحول کے تمام تر تقاضوں کو پورا کرتا ہو۔ سفر شروع کرنے سے پہلے منزل کا ذہن میں ہونا ضروری ہے تب ہی کوئی غلطی کا خدشہ نہیں ہوگا۔
ادارتی لا علمی فوری اور عارضی علاج (جگاڑ) کی طرف لے جاتی ہے۔ ایڈہاک انتظامات مقبول ہیں۔ سیاست، معیشت اور معاشرے کا احاطہ کرنے والی پالیسیاں بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی۔ حالات پر صرف ہنگامی ردعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ معاشرے کی انتہا پسندی محض حقائق سے جان بوجھ کر لا علمی کا نتیجہ ہے جو معاشرے روزگار، ترقی اور خوشحالی کے مواقع فراہم نہیں کرتے وہ انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت جو عصری بے چینی برقرار ہے وہ چند سالوں کی پیداوار نہیں، یہ نقصان صدر ضیاء کے دور میں شروع ہوا تھا۔ یہ زوال سست بھی رہا اور تیز بھی۔ مستقبل کے ذمہ داروں نے خود کو اعداد و شمار، شماریات، خود غرضانہ تجزیوں اور رپورٹوں کے دھوکے کے سپرد کر دیا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار آگے بڑھنے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ہمیں ان چیزوں کو قبول کرنے کی عقل ہونی چاہیے جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں، ہتھیار ڈالنے کے طور پر نہیں بلکہ ایک انتخاب کے طور پر۔ ہمیں تبدیلی کی جدت، رفتار اور رفتار کو قبول کرنے کیلئے عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور انکار و مزاحمت سے خود کو تھکانا نہیں چاہیے۔
تمام چیلنجنگ اہداف کا آغازسوچے سمجھے اقدامات سے ہونا چاہیے، صرف آگے بڑھنے والا قدم ہی ترقی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ تو پھر رجعت پسندانہ اقدامات کیوں اٹھائے جائیں؟ جو گرتا ہے یا ناکام ہوتا ہے اس میں اٹھنے اور کامیاب ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، اس کے لیے استقامت اور لچک کی دانشمندی درکار ہوتی ہے۔ کیا ہم یہ نہیں جانتے؟ ہم واقعی جانتے ہیں لیکن جمود کی مستقل حالت میں رہنے کی فکری رکاوٹ کو عبور کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بات بڑے جوش و خروش سے کہی جاتی ہے کہ کوئی بھی پاکستانی شمالی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں رہنے والوں سے کسی طرح بھی کم ذہین نہیں ہے۔ درحقیقت ہم تخلیقی صلاحیتوں کو اپنانے میں کہیں زیادہ آگے ہیں۔ ہم خود کو سسٹمز کا غلام نہیں بناتے، یہ اچھا ہے کیونکہ یہ تنقیدی سوچ کی اجازت دیتا ہے، یہ برا اس لیے ہے کیونکہ سسٹمز پالیسیوں اور طریقہ کار کی خلاف ورزی سے ہم الجھن، اقربا پروری اور فیورٹزم کو جنم دیتے ہیں۔ اگر ہم گڈ گورننس کے دائرے میں رہ کر تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو ہماری ترقی زیادہ تیز ہوگی۔
دانشمندی حقیقت کو قبول کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اگلے 3-4 برس میں برآمدات کے لیے 60 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کرنا (آج یہ 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہے) اور مالیاتی سال 27-2026 کے لیے 15 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو کی وصولی کا ہدف رکھنا (ہم پچھلے سال کے نظرثانی شدہ کم نمبرز بھی حاصل نہیں کر سکے تھے) عقل اور دانشمندی دونوں پر شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔
ملک کو معاشرے کے تمام طبقات کا احاطہ کرنے والے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے۔ ”اصلاح“ باری باری نہیں کی جا سکتی، اسے سوچ اور عمل کے اتحاد کے ساتھ حل کرنا ہوگا۔ ہر شعبہ پوری حکمت عملی پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسی لیے ایک ہمہ گیر ” اصلاحی پالیسی“ تیار کرنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ پالیسی سازی اور عمل کو مل کر چلنا چاہیے، فی الحال وہ متضاد سمتوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ آئیے پہلے جاہل بننے کا ناٹک بند کریں۔ ہم اپنے مسائل جانتے ہیں۔ آئیے انہیں حل کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026