Perspectives

پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام پر ازسرِنو غور کی ضرورت

  • افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 07:31pm

سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تدریسی عملے (فیکلٹی) کی رجسٹرار، کنٹرولر امتحانات، کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) کے ڈائریکٹر اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) سمیت مختلف انتظامی عہدوں پر تقرری روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ عہدے بنیادی طور پر انتظامی امور، سیکریٹریل ذمہ داریوں، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور متعلقہ فریقوں و عوام سے رابطے سے متعلق ہوتے ہیں۔

فیکلٹی کو ایسی انتظامی ذمہ داریوں میں مصروف کرنا انہیں سماجی و معاشی ترقی، تحقیق اور فنڈز کے حصول جیسے بنیادی فرائض سے دور کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں یہ معمول ہے کہ اساتذہ سیکریٹریل اور انتظامی ذمہ داریوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا زیادہ وقت تحقیق، تدریس، مشاورتی خدمات اور پالیسی سازی میں صرف کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران سینئر اساتذہ کو ان انتظامی اور سیکریٹریل عہدوں پر تعینات کرنے کا رجحان اندرونی سیاست، ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا نتیجہ تھا۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ پابندی نجی شعبے کی جامعات پر کیوں عائد نہیں کی گئی؟ نجی جامعات کے لیے تو مشاورتی اور کنسلٹنسی خدمات کے ذریعے فنڈز کا حصول زیادہ اہم ہے کیونکہ انہیں حکومتی مالی معاونت حاصل نہیں ہوتی، بصورت دیگر مالی بوجھ بالآخر طلبہ پر منتقل ہو جاتا ہے۔

فیکلٹی کی انتظامی اور ریکارڈ کی دیکھ بھال سے متعلق ذمہ داریوں نے سینئر اساتذہ کو بتدریج بیوروکریٹ بنا دیا، جبکہ جامعات میں آڈٹ اور تعمیل کا ایسا نظام متعارف ہوا جس نے آزادانہ تدریس اور معیاری تحقیق کو محدود کر دیا۔ اس ماحول میں نجی جامعات میں تحقیق محض طلبہ کو راغب کر کے آمدنی بڑھانے کا ذریعہ بن گئی، جبکہ سرکاری جامعات مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ پر انحصار کرتی ہیں، جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی موجودہ مالی مشکلات کے باعث غیر یقینی صورت اختیار کر چکی ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ جامعات اپنی مالی ضروریات کیسے پوری کریں؟ جب حکومتی فنڈنگ دستیاب تھی تو سرکاری جامعات کی انتظامیہ کے لیے وسائل پیدا کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اصل توجہ ان وسائل کے استعمال پر مرکوز رہی۔ تعلیمی اداروں میں ذاتی مفادات اور اندرونی سیاست ہی ٹیکس دہندگان کے وسائل کے غیر مؤثر استعمال کی بڑی وجہ بنی۔ اعلیٰ تعلیم کے معیار میں بہتری کے نام پر ٹیکس دہندگان کا سرمایہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے خرچ کیا جاتا رہا۔

ان فنڈز کا بڑا حصہ جامعات کے اساتذہ کو مالی مراعات دینے پر صرف ہوا۔ اعلیٰ تنخواہی درجات میں تیز رفتار ترقیاں، ٹینیور ٹریک سسٹم کے تحت پرکشش تنخواہیں، انکم ٹیکس میں رعایت، بین الاقوامی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے سفری و رہائشی اخراجات، تحقیقی مقالات کی اشاعت کی فیس، اور پاکستانی جامعات کی کانفرنسوں میں غیر ملکی مقررین کے اعزازیے، رہائش اور سفری اخراجات، وہ نمایاں مدات ہیں جنہیں اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات کے نام پر برداشت کیا گیا۔

یقیناً ان بھاری اخراجات کے لیے اضافی مالی وسائل بھی پیدا کیے گئے۔ بین الاقوامی اداروں سے گرانٹس، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا حصول، جی ایس ٹی اور دیگر ٹیکسوں میں اضافہ، اور مختلف اشیا و خدمات پر سبسڈیز میں کمی یا ان کا خاتمہ وہ ذرائع تھے جن سے اعلیٰ تعلیم پر بڑھتے ہوئے اخراجات کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی۔ تاہم اس حکمت عملی کے قدرتی نتائج میں قرضوں کے بوجھ اور افراطِ زر میں اضافہ شامل ہیں۔

نجی شعبے میں جامعات کی تیزی سے بڑھتی تعداد اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی مراعات نے پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔ اس طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے غیر ملکی درمیانے اور کم درجے کی جامعات نے تیز رفتار ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرام متعارف کرائے اور داخلہ پالیسیوں میں نرمی کر دی۔ ان اداروں کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے پاکستانی طلبہ کے داخلوں سے حاصل ہوا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ 2000 کی دہائی کے آغاز میں، یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل، لندن سے شائع ہونے والے دی اکانومسٹ اور دیگر ممتاز تھنک ٹینکس نے پیش گوئی کی تھی کہ یورپ کی جامعات مالی مشکلات کے باعث اپنے اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا شکار ہوں گی۔ اس کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے پر بھاری فنڈز خرچ کیے، جن میں سفر، رہائش، وظائف، ٹیوشن فیس اور دیگر اخراجات شامل تھے۔

2005 میں ایک سینئر ماہر تعلیم نے اس پالیسی کے ممکنہ سنگین نتائج کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ کو پی ایچ ڈی کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جا رہا ہے، مگر زیادہ تر کا رخ دوسرے درجے کے تعلیمی اداروں کی طرف ہے۔ آج یورپ، چین، جاپان اور ملائیشیا کی اوسط درجے کی جامعات سے ڈگری حاصل کرنے والے یہی پاکستانی اساتذہ ملک کی جامعات میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں قومی خزانے اور ٹیکس دہندگان کے وسائل سے پی ایچ ڈی کرنے والے ان افراد کی عملی کارکردگی کیا رہی؟ صنعت میں ان کی شراکت نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ جامعات میں بھی ان کی علمی خدمات جانچنے اور اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

اپنی کامیابیوں کے ثبوت کے طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نجی شعبے میں جامعات کی بڑھتی تعداد، پاکستان میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح ہر جامعہ میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل (کیوای سی) اور آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (اوآرآئی سی) کا قیام، سرقہ شناسی (اینٹی پلیچیارازم) سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل لائبریری کی فراہمی، دو غیر ملکی ممتحنین سے پی ایچ ڈی تحقیق کا جائزہ، ڈبلیو کیٹیگری کے تحقیقی جریدے میں کم از کم ایک مقالے کی اشاعت، اور پی ایچ ڈی مقالوں کے مرکزی ذخیرے (سینٹرالائزڈ ریپوزیٹری) جیسے اقدامات کو بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنی نمایاں کامیابیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔

تاہم یہ تمام کامیابیاں نہ تو معاشی ترقی، نہ تکنیکی پیش رفت اور نہ ہی تحقیق کے معیار میں کسی نمایاں بہتری کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ پالیسی سازوں کی نیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، لیکن ان پالیسیوں کی افادیت ضرور زیرِ بحث ہے۔ سماجی و معاشی ترقی کی صورت میں حقیقی نتائج اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب دستیاب وسائل کا مؤثر اور درست استعمال کیا جائے۔

پاکستانی جامعات کے اساتذہ کی تحقیقی اشاعتوں میں غیر معمولی اضافہ بھی نہ تو سائنسی ترقی، نہ تکنیکی جدت اور نہ ہی معاشی نمو کی عکاسی کرتا ہے۔ تحقیقی مقالات کی بڑی تعداد میں ایک ہی نوعیت کی روایتی تحقیق درحقیقت ترقیوں اور مالی مراعات کے حصول کا ایک مہنگا ذریعہ بن چکی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تحقیقی مقالات کی اشاعت سے متعلق فیسوں، جن میں آرٹیکل جمع کرانے کی فیس، آرٹیکل پروسیسنگ چارجز، صفحاتی فیس، ری پرنٹ فیس، فاسٹ ٹریک پیئر ریویو فیس، لسانی تدوین کے اخراجات اور اوپن ایکسس (گولڈ آپشن) فیس شامل ہیں، کے علاوہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت اور مختلف اداروں کی رکنیت کی مد میں بھی بھاری زرمبادلہ بیرونِ ملک منتقل ہوا۔ ان اخراجات کی بڑی حد تک مالی معاونت ہائر ایجوکیشن کمیشن کرتا ہے، جبکہ بالآخر اس کا بوجھ ٹیکس دہندگان یا جامعات کے طلبہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

خواہ یہ اخراجات قومی خزانے سے پورے کیے جائیں یا ذاتی وسائل سے، زرمبادلہ کا یہ مسلسل اخراج ان نمائشی اور سطحی تحقیقی سرگرمیوں کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ان سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کا بنیادی مقصد مختلف عالمی درجہ بندی کرنے والے اداروں کے معیار پر بہتر رینکنگ حاصل کرنا ہے۔ ایسی درجہ بندی کے لیے زیادہ تحقیقی اشاعتیں، بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت، دستاویزی شواہد اور صنعت کے ساتھ روابط کا ریکارڈ بنیادی تقاضے سمجھے جاتے ہیں۔

اسی طرح بورڈ آف گورنرز اور مختلف کمیٹیوں کے اجلاسوں کا باقاعدہ ریکارڈ، ان کی تشکیل، مختلف شعبوں کی رسمی کارروائیاں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی ڈبلیو کیٹیگری کے جرائد میں شائع ہونے والے مقالات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز کی تعداد اور مکمل ہونے والے تحقیقی منصوبوں (جن میں اکثریت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مالی تعاون سے مکمل ہوتی ہے) کو اعلیٰ درجہ بندی کے اہم پیمانے تصور کیا جاتا ہے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ معاشی ترقی، صنعتی پیداوار میں اضافہ، ایجادات، اختراعات، سائنسی دریافتیں، فکری ارتقا، سیاسی نظام اور طرزِ حکمرانی میں بہتری، سماجی اقدار کا فروغ، غربت میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور معاشرتی ترقی جیسے اہداف جامعات کے بنیادی مقاصد میں شامل ہی نہیں۔

آج کی دنیا میں تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی اصل طاقت ان کی جامعات ہیں، جو عالمی سطح کی اعلیٰ جامعات میں شمار ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان جامعات میں فیکلٹی کے انتخاب کے لیے اعلیٰ معیار کی تحقیق ایک بنیادی شرط ہے، لیکن وہاں تحقیق کا معیار اس کے نتائج اور افادیت سے جانچا جاتا ہے، نہ کہ صرف تحقیقی مقالات یا حوالہ جات (سےٹیشن) کی تعداد سے۔ ان جامعات کے مضبوط انڈرگریجویٹ پروگرام بھی ان کے اساتذہ کی تحقیقی صلاحیتوں کا ہی ثمر ہوتے ہیں۔

عالمی معیار کی جامعات میں طلبہ کے انتخاب کا نظام بھی تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکا میں مرکزی امتحانی نظام امیدواروں کی تجزیاتی صلاحیت، مقداری مہارت، زبان پر عبور اور متعلقہ مضمون کے علم کو جانچتا ہے اور اسی بنیاد پر بہترین اور اوسط درجے کے امیدواروں میں فرق کرتا ہے۔ یوں ہر مرحلے پر باصلاحیت ذہنوں کا انتخاب یقینی بنایا جاتا ہے۔

جامعات میں داخلے کے بعد تعلیمی اخراجات کی مالی معاونت کے لیے بھی مختلف ذرائع موجود ہوتے ہیں، جن میں بینک قرضے، اثاثوں کے عوض مالی سہولت، ممکنہ آجر کی مالی ضمانت، وظائف اور اسکالرشپس شامل ہیں۔ بہترین جامعات میں بہترین اساتذہ اور بہترین طلبہ ہی مستقبل کے کامیاب رہنما، سائنس دان، محقق، پالیسی ساز اور مدبر پیدا کرتے ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہیں تو پالیسی سازوں اور جامعات کی انتظامیہ کو عالمی معیارات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا اور جامعات کے معاملات میں سیاسی اثرورسوخ، لابنگ اور اقربا پروری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی خودمختاری کے نام پر لابنگ اور یونین ازم نے اعلیٰ تعلیم کے زوال میں اہم کردار ادا کیا اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کو بھی متاثر کیا۔ جامعات کی خودمختاری اساتذہ، ملازمین اور طلبہ کا پسندیدہ نعرہ بن چکی ہے، حالانکہ قومی ذرائع ابلاغ میں اس خودمختاری کے غلط استعمال کی متعدد مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ افسوس کہ اس خودمختاری کو بااثر جامعہ سربراہان نے اپنی خواہشات کے مطابق قواعد و ضوابط میں ردوبدل اور ان کی من مانی تشریح کے لیے استعمال کیا۔

ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کی گئی۔ فیکلٹی کی تقرری، طلبہ کے داخلے، پوزیشن ہولڈرز کے تعین، تحقیقی مقالات کی منظوری اور سلیکشن بورڈز کی تشکیل کے معیار میں بار بار تبدیلیاں تعلیمی خودمختاری کے نام پر معمول بن چکی ہیں۔ اس قسم کی فکری بدعنوانی کا ملک کے سیاسی نظام یا سول بیوروکریسی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی جڑیں ذاتی مفادات، اقربا پروری اور پسند و ناپسند میں پیوست ہیں۔ بعض اوقات اس میں نسلی یا فرقہ وارانہ تعصب بھی شامل ہو جاتا ہے۔

یونین ازم اور مختلف گروہ بندیوں کے دباؤ کے نتیجے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تدریسی اور تحقیقی معیار جانچنے کے اصول بھی نرم کر دیے۔ ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے 2005 میں واضح طور پر کہا تھا کہ سرکاری جامعات میں موجود نام نہاد ”ماہرین تعلیم“ اور ”دانشور“ مقامی جامعات سے حاصل کردہ پی ایچ ڈی ڈگریوں کے ذریعے اپنے ہی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلے کے لیے این ٹی ایس یا جی آرای امتحان لازمی قرار دیا تھا، مگر بڑی سرکاری جامعات کے اساتذہ اس شرط پر پورا نہ اتر سکے تو ان جامعات کی اکیڈمک کونسلز نے یہ شرط ہی ختم کر دی۔ اسی طرح ابتدا میں اساتذہ کی تقرری اور ترقی کے لیے آئی ایس آئی تھامسن(ویب آف سائنس) سے تسلیم شدہ تحقیقی جرائد میں مخصوص تعداد میں مقالات شائع کرنا ضروری تھا، لیکن بعد ازاں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ڈبلیو،ایکس،وائی اورزیڈ کیٹیگری کے جرائد متعارف کرا کے اس معیار کو بھی نرم کر دیا۔

نصاب سازی کی کمیٹیوں کو جمہوری انداز دینے کے نام پر تمام جامعات کو قومی نصاب کی تیاری میں شامل کیا گیا، جس کے نتیجے میں نصاب کمیٹیوں میں اکثریت چھوٹے شہروں کی جامعات یا نسبتاً کم تجربہ رکھنے والے اساتذہ کی ہو گئی، اور یہی اکثریت نصاب کی حتمی منظوری کی مجاز بھی بن گئی۔

حالیہ برسوں میں سرکاری جامعات کے بعض شعبوں اور تحقیقی مراکز کی بندش، علیحدگی یا خودمختار حیثیت کے خاتمے جیسے مسائل بھی اسی طرزِ حکمرانی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف شعبوں اور مراکز کی پائیداری اور معاشی افادیت کا جائزہ عموماً ان کے اخراجات اور معاشی و سماجی نتائج کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، حالانکہ پاکستان کی ایک بڑی سرکاری جامعہ میں قائم کوئی تحقیقی مرکز اگر اسے حقیقی خودمختاری دی جائے تو ملکی معیشت اور معاشرے کے لیے غیر معمولی خدمات انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی جامعہ کا ایک اور تحقیقی مرکز بھی عوامی وسائل کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود انتہائی محدود نتائج دے رہا ہے۔ اگر اس کے مجموعی بجٹ کو فارغ التحصیل طلبہ کی تعداد پر تقسیم کیا جائے تو ہر ایم فل طالب علم پر آنے والی لاگت دو کروڑ روپے سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بڑی سرکاری جامعات میں بیوروکریٹک رکاوٹیں کس طرح نااہلی، غیر مؤثر انتظام اور وسائل کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔

2006 میں ایک سینئر ماہرِ تعلیم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسیوں کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ جامعات کے طرزِ حکمرانی (گورننس) میں اصلاحات کیے بغیر اصلاحاتی پروگرام نافذ کر دیے گئے، جس کے نتیجے میں بدعنوانی، بدانتظامی اور اقربا پروری نے غیر معمولی فروغ پایا۔

پالیسی سازوں اور ریگولیٹری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟

بلاشبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو درپیش ان بنیادی اور پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے جامع ریگولیٹری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اس سلسلے میں پالیسی سازوں اور متعلقہ اداروں کو درج ذیل تجاویز پر غور کرنا چاہیے۔

جامعات کی پائیدار ترقی کے لیے مالی وسائل کا تنوع ناگزیر ہے۔ تحقیق، اختراعات، مشاورتی خدمات، سابق طلبہ (المنائی) کے عطیات، داخلہ و ٹیوشن فیس، سرکاری و نجی شراکت داری اور مخیر حضرات کے عطیات وہ اہم ذرائع ہیں جن سے جامعات کی مالی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔

تاہم پاکستان میں سرکاری جامعات کی مالیات کا بنیادی انحصار قومی خزانے پر ہے، جبکہ نجی جامعات کی آمدنی کا بڑا ذریعہ طلبہ سے وصول کی جانے والی فیس ہے۔ حتیٰ کہ جامعات میں جاری بیشتر تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی ان اداروں کی جانب سے نہیں کی جاتی جو ان تحقیقات کے اصل مستفید ہونے چاہییں، مثلاً صنعتی ادارے، تجارتی کمپنیاں اور پالیسی سازی کے ادارے۔

صنعتی و تجارتی شعبے میں بھی تحقیقی نتائج سے استفادہ کرنے کا مطلوبہ شعور موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی جامعات میں تحقیق کے لیے گرانٹس زیادہ تر ہائر ایجوکیشن کمیشن یا دیگر سرکاری ادارے فراہم کرتے ہیں، جو مالی وسائل کا پائیدار ذریعہ نہیں۔ اس طرزِ عمل سے طویل المدتی منصوبہ بندی، اختراعات اور علم کی تخلیق کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری جامعات کی مالی معاونت اور نجی جامعات کے طلبہ کی مدد کے لیے سوشل کنٹری بیوشنز سے حاصل ہونے والی آمدنی استعمال کی جاتی ہے۔ امریکا میں سرکاری آمدنی کا 37 فیصد، برطانیہ میں 21 فیصد اور اسرائیل میں 17 فیصد حصہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ عالمی اوسط 37 فیصد ہے۔ باقی آمدنی انکم ٹیکس، منافع، دولت، اشیا و خدمات اور بین الاقوامی تجارت پر عائد ٹیکسوں سے حاصل کی جاتی ہے۔

سوشل کنٹری بیوشنز اور عام ٹیکسوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سماجی شراکتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا مصرف آئینی طور پر پہلے سے متعین ہوتا ہے اور اسے عمومی سرکاری اخراجات پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ماضی میں اقرا سرچارج، دفاعی سرچارج اور کاٹن سیس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ اسی طرز پر اعلیٰ تعلیم کی مالی معاونت کے لیے پاکستان کے مالیاتی نظام میں بھی مخصوص سماجی شراکتوں کا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

سماجی و معاشی ترقی کے اشاریوں کی پیمائش میں اعلیٰ تعلیم کو ہمیشہ سائنس و ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، ہائی ٹیک مصنوعات، اختراعات اور تحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، نہ کہ شرحِ خواندگی کے اشاریوں کے ساتھ۔ خواندگی اور اعلیٰ تعلیم، تعلیم کے دو الگ شعبے ہیں جن کی کارکردگی، وسائل اور نتائج جانچنے کے پیمانے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

جامعات، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اور تحقیقی جرائد میں شائع ہونے والے مقالات کی تعداد میں معیار کو نظرانداز کرتے ہوئے محض مقداری اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ اعلیٰ تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، تاہم اس ضرورت کو مضبوط پوسٹ گریجویٹ کالجز کے ذریعے بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ کم لاگت پر پوسٹ گریجویٹ کالجوں کا وسیع نیٹ ورک قائم کیا جائے، اور کئی برسوں تک کامیاب کارکردگی دکھانے کے بعد ہی انہیں جامعہ کا درجہ دیا جائے۔

جامعات کی حکمرانی اور مالی معاونت کے نظام میں اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں کا بنیادی کردار آمدنی میں عدم مساوات کم کرنا اور غربت میں کمی لانا ہے۔ تاریخی طور پر جامعات نے متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو خوشحال طبقے میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، مگر اب جامعات خود آمدنی میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہیں، اور اس تبدیلی کی بنیادی وجہ ان کا فیس پر مبنی آمدنی کے نظام پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔

نوٹ: ضروری نہیں کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتے ہوں۔