وزیر اعظم شہباز شریف کا جامع قومی زرعی پالیسی مرتب کرنے کا حکم
- زراعت کو جدید بنانے اور کسانوں کو قرضوں کی آسان فراہمی کا روڈ میپ پیش کر دیا گیا
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حکومت کو صوبوں کی مشاورت سے جامع قومی زرعی پالیسی مرتب کرنے اور زرعی شعبے میں اصلاحات کی نگرانی اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے (ایپیکس) فورم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیرِ اعظم آفس کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تنظیم نو اور زرعی شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ مجوزہ فورم ہر ماہ اجلاس منعقد کرے گا، تاکہ زرعی جدت اور ترقی کے منصوبے پر مؤثرعمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے حکام کو کسانوں کے لیے رعایتی مالیات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے زرخیز زرعی قرضہ پروگرام کی ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ زراعت کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ اس شعبے میں ملک کو پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے معیاری بیجوں، جدید زرعی ٹیکنالوجیز کی فراہمی اور پانی و کھادوں کی بروقت دستیابی کے ذریعے فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیرِ اعظم نے زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن، گوداموں اور جدید اسٹوریج سسٹم پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پی اے آر سی) کو زرعی تحقیق کا ایک ممتاز مرکز بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کے دوران حکام نے وزیرِ اعظم کو جاری اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کی جانب سے ملٹی گرین (مخلوط غلہ) آٹے کی پائلٹ پروڈکشن، کسانوں کو فصلوں کی بیماریوں اور کیڑوں کا پتا لگانے میں مدد دینے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) پر مبنی ایپلی کیشن کی تیاری اور نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے زرعی فنانسنگ تک رسائی کو بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ نیشنل سیڈ پالیسی اور نیشنل ایگریکلچر بائیوٹیکنالوجی پالیسی کی حال ہی میں منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ پاکستان نیشنل اولیو ویلیو چین پالیسی پر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور یہ پالیسی جلد ہی منظوری کے لیے پیش کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ قومی گندم پالیسی اور لائیو اسٹاک سے متعلق متعدد پالیسیوں پر کام بھی جاری ہے۔