نارکو دہشت گردی کے مہلک پنجے
- ”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہےـ (آئی این سی ایس آر مارچ 2005)
26 جون 2026 کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1987 میں اس عالمی دن کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد عالمی برادری میں منشیات کے استعمال کے خطرات سے آگاہی بڑھانا، اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر اس ناسور کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ہر سال اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم ( یواین اوڈی سی) اس دن کے لیے ایک موضوع مقرر کرتا ہے۔ رواں سال کا موضوع ہے: ”منشیات کا مسئلہ برقرار، نئے چیلنجز اور جدت پر مبنی حل“۔
”منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں پاکستان کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے شدت پسندانہ تشدد میں اضافہ، ہمسایہ افغانستان میں عدم استحکام، اور منشیات کی اسمگلنگ کے راستوں کا مسلسل پھیلتا ہوا جال شامل ہے۔
افغانستان میں تیار ہونے والی بیشتر منشیات (خصوصاً ہیروئن اور افیون) پاکستان کے راستے منتقل کی جاتی ہیں۔ اگرچہ زمینی راہداریاں پاکستان، افغانستان، ایران اور بھارت کو آپس میں ملاتی ہیں، تاہم حکام کے مطابق بڑی مقدار میں منشیات پاکستان کی بحری حدود سے بھی نسبتاً آزادانہ طور پر اسمگل کی جاتی ہیں“۔(انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ مارچ 2025)
دہشت گردی، منشیات کے بدلے اسلحے کی خرید و فروخت اور منی لانڈرنگ ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور یہ نہ صرف عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں بلکہ کئی ممالک کے سیاسی اور مالیاتی استحکام کو بھی متزلزل کر رہے ہیں۔
شدت پسند اور انتہا پسند عناصر کے منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوث مجرمانہ نیٹ ورکس سے گہرے روابط ہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کے پاس موجود شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان سے لے کر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، اور القاعدہ سے داعش تک، اصل مسئلہ قانونی اور غیر قانونی رقوم کی بلا روک ٹوک آمدورفت ہے۔ آج تک عالمی برادری ان گروہوں کی مالی شہ رگ کاٹنے میں ناکام رہی ہے۔
یہ ایک کھلا راز ہے کہ طالبان کے بعد کے افغانستان میں منشیات کی تجارت کو کس طرح ادارہ جاتی شکل دی گئی۔ اس میں کابل کی کٹھ پتلی حکومت اور افغانستان کے متعدد صوبوں میں جنگجو سرداروں کی سرپرستی نے کلیدی کردار ادا کیا۔
جب افغانستان کے اندر بڑے پیمانے پر افیون کو مارفین اور ہیروئن میں تبدیل کیا جانے لگا تو اس سے زمینی کمانڈروں کے لیے بے پناہ مالی وسائل پیدا ہوئے۔
2004 سے 2021 تک افغانستان میں قائم محدود یا کنٹرولڈ جمہوریت نے، جو زیادہ منظم اور منشیات سے مالا مال جنگجو کمانڈروں کے مفادات کے تابع رہی، نہایت تباہ کن نتائج پیدا کیے۔
اب یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ طالبان، جن سے امریکہ اور اس کے اتحادی 2004 سے مسلسل مذاکرات کرتے رہے، بخوبی جانتے تھے کہ ہر انتخاب میں ووٹ کیسے خریدا یا طاقت کے ذریعے حاصل کیا جائے تاکہ افیون سے وابستہ ان کے مفادات محفوظ رہیں۔
افغانستان کے ہمسایہ ممالک بھی اس غیر قانونی تجارت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق وسطی ایشیا کے مجرمانہ گروہوں نے 2015 میں افیونی منشیات کی اسمگلنگ سے 15.2 ارب ڈالر کمائے، جو صرف دو برس میں بڑھ کر 22.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2017)۔ 2026 میں یہ حجم 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔
تازہ ترین ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025 کے مطابق تاریخ، غربت اور جغرافیائی عوامل کے امتزاج کے باعث تاجکستان منشیات کی لعنت سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے۔
1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ منشیات کی تجارت اسلامک موومنٹ آف ازبکستان (آئی ایم یو) نامی دہشت گرد تنظیم کے لیے مالی وسائل کا اہم ذریعہ تھی، جس کے اڈے افغانستان اور تاجکستان میں موجود تھے۔
افغانستان کی جنگ کے بعد اگرچہ آئی ایم یو اپنی زیادہ تر قوت کھو بیٹھی، تاہم منشیات کی تجارت بدستور جاری رہی اور سیاسی یا مذہبی شدت پسندوں کی جگہ منظم جرائم پیشہ گروہوں نے لے لی۔
اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے میں ہر دس میں سے آٹھ افراد نے، جو کسی حیرت کی بات نہیں، یہ کہا کہ ”منشیات کی اسمگلنگ کی طرف جانے کی بنیادی وجہ بہت زیادہ دولت کمانا ہے۔“
جغرافیہ نے بھی تاجکستان کے منشیات کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ افغانستان کے ساتھ اس کی 1,400 کلومیٹر طویل سرحد وسطی ایشیا کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ طویل ہے، جس کی مؤثر نگرانی بھی اتنی ہی دشوار ہے۔
افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں، جہاں پوست کی بڑے پیمانے پر کاشت ہوتی ہے، تاجکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ وہاں سے زیادہ تر منشیات ازبکستان اور کرغزستان منتقل کی جاتی ہیں، جہاں سے وہ آگے قازقستان اور پھر روس پہنچتی ہیں۔
’گولڈن ٹرائی اینگل‘ مہلک ترین منشیات کا بڑا مرکز
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یواین اوڈی سی) کی ’ورلڈ ڈرگ رپورٹ 2025‘ کے مطابق میانمار (برما) میں 2025 کے دوران افیون کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد بڑھ کر 53 ہزار 100 ہیکٹر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ دس برس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کے ساتھ ہی میانمار نے افغانستان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔
’2024 یو این او ڈی سی میانمار افیون سروے: کاشت، پیداوار اور مضمرات‘ کے مطابق میانمار نے 2024 میں 995 میٹرک ٹن افیون پیدا کی، جو 2023 میں پیدا ہونے والی 1,080 میٹرک ٹن کے مقابلے میں 8 فیصد کم تھی۔
انٹرنیشنل نارکوٹکس کنٹرول اسٹریٹجی رپورٹ (آئی این سی ایس آر)، مارچ 2025 کے مطابق 2023 میں خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 190 میٹرک ٹن میتھ ایمفیٹامین ضبط کی، جو اب تک کی ریکارڈ مقدار ہے۔ اس میں سے 73 فیصد برما، تھائی لینڈ اور لاؤس پر مشتمل ’گولڈن ٹرائی اینگل‘ کے علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ اس منشیات کی زیادہ تر پیداوار بھی میانمار میں ہوئی۔
اس عرصے کے دوران افغانستان کے منشیات پیدا کرنے والے پانچ بڑے صوبوں میں سے ہلمند، ارزگان اور قندھار ایک نئے ’کولمبیا‘ کی شکل اختیار کر گئے، جہاں منشیات کے سرغناؤں نے نہ صرف حکومتوں بلکہ معیشت کو بھی اپنے شکنجے میں لے کر تباہ کر دیا۔
افغانستان کی مسلسل آنے والی حکومتیں پوست کی کاشت کو غیر قانونی قرار دینے کے سوا اس کے خاتمے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہ کر سکیں۔
”امریکی صدر کی مالی سال 2025 کے لیے جاری کردہ فہرست کے مطابق افغانستان اب بھی منشیات کی پیداوار اور ترسیل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ افیون، ہیروئن، میتھ ایمفیٹامین اور مصنوعی منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے جاری اصلاحات اور اقدامات کو اس حد تک مؤثر سمجھا گیا کہ افغانستان کو بین الاقوامی انسدادِ منشیات معاہدوں پر عمل درآمد میں واضح ناکامی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔“(آئی این سی ایس آر 2025)
آئی این سی ایس آر 2025 نے، سابقہ رپورٹس کی طرح، طالبان کے خطرے پر تو زور دیا، لیکن افغانستان میں وسیع پیمانے پر پھیلی غربت اور امیر و غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے تفاوت کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
بہت سے مقامی سیاست دانوں کے نزدیک یہ معاشی عوامل، قدرتی آفات اور سرحدی مسائل طالبان سے کہیں زیادہ سنگین چیلنج تھے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف ہے کہ ماضی اور حال دونوں میں ’طالبان کے خطرے‘ کو دانستہ طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تاکہ ہر قسم کی مذہبی یا غیر مذہبی اختلافی آواز کو دبایا جا سکے۔ تاہم وہ حلقے بھی، جو اسلامی شدت پسندی اور دہشت گردی کو حقیقی خطرہ سمجھتے تھے، امریکی حمایت یافتہ حکومتوں پر یہ تنقید کرتے رہے کہ انہوں نے طالبان کا مقابلہ معاشی ترقی اور روزگار کے ذریعے کرنے کے بجائے محض عسکری حکمت عملی اپنائی۔
2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد دوسری مرتبہ افغانستان میں اقتدار سنبھالنے والے طالبان نے آئی این سی ایس آر 2025 کے مطابق پوست کی کاشت اور منشیات کی تجارت میں کمی لانے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ”اگرچہ افغانستان کئی دہائیوں سے دنیا میں پوست کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے، تاہم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور دیگر ذرائع کی حالیہ رپورٹس سے تصدیق ہوتی ہے کہ طالبان کی 2022 کی انسدادِ منشیات پابندی کے بعد مسلسل دوسرے سال بھی پوست کی کاشت میں نمایاں کمی برقرار رہی۔
اگرچہ 2024 میں یو این او ڈی سی نے پوست کی کاشت کا تخمینہ 12 ہزار 800 ہیکٹر لگایا، جو 2023 کے مقابلے میں معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے، تاہم یہ رقبہ 2022 کے 2 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے کے مقابلے میں اب بھی بہت کم ہے۔“
تاہم اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال افغانستان میں، خصوصاً خواتین میں، منشیات کے استعمال میں اضافہ ہے۔ آئی این سی ایس آر 2025 میں اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے: ”افغانستان اس وقت منشیات کے استعمال کے شدید بحران سے دوچار ہے اور فی کس منشیات کے عادی افراد کی شرح دنیا میں بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔ غیر مصدقہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین میں منشیات کے استعمال میں اضافہ طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔“
رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے باوجود طالبان کے زیر انتظام منشیات کے علاج کے مراکز میں خواتین اور لڑکیوں کی تعداد نہایت کم ہے۔
امریکہ ایران کی ان کوششوں کو تسلیم اور ان کی حمایت کر کے مثبت کردار ادا کر سکتا تھا، جن کے تحت منشیات کی تجارت میں ملوث جنگجو سرداروں اور کمانڈروں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا گیا، مگر مصنف کے مطابق امریکی پالیسی ان عناصر کی پشت پناہی کرتی رہی۔
اسی لیے آزاد خیال مبصرین افغانستان اور دیگر خطوں میں منشیات کی اسمگلنگ اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف امریکی پالیسیوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
مصنف کے مطابق چین بھی اسی تناظر میں اسے امریکہ کا ایک خفیہ ایجنڈا قرار دیتا ہے، جس کا مقصد سی آئی اے کی مبینہ سرپرستی میں عسکریت پسندی کو فروغ دے کر، سابق سوویت یونین کے خلاف زبگنیو برژنسکی کی حکمت عملی کو چین کے خلاف جاری رکھنا ہے۔
مصنف مزید دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں چینی شہریوں، کارکنوں، تاجروں اور اساتذہ پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر گروہوں کے حملے، جنہیں وہ را، سی آئی اے، موساد اور ایم آئی 6 کی مبینہ سرپرستی اور مالی معاونت کا نتیجہ قرار دیتا ہے، چین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مستقبل کے منصوبوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
مصنف کے مطابق ان تمام کوششوں کا مقصد چین کے اہم منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو عالمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کا حصہ ہے، کو ناکام بنانا ہے۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026