فیفا ورلڈکپ: ایران کا مصر سے میچ برابر، اگلے مرحلے کی امیدیں تاحال برقرار
- مصر نے کھیل کے پانچویں منٹ میں ہی برتری حاصل کرلی تاہم ایران نے جلد ہی حساب چکتا کردیا
ایران اور مصر کے درمیان فیفا ورلڈکپ گروپ مرحلے کا اہم مقابلہ 1-1 سے برابر رہا۔
ایران ورلڈ کپ ناک آؤٹ مرحلے میں اپنی جگہ یقینی بنانے سے اس وقت محروم ہوگیا جب میچ کے آخری لمحات میں کیا گیا شجاع خلیل زادہ کا گول وی اے آر کے طویل جائزے کے بعد آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
شجاع خلیل زادہ نے سوچا کہ انہوں نے فیصلہ کن فاتح گول کردیا ہے جب انہوں نے مصری ڈیفنڈرز کی جانب سے گیند کلیئر نہ کر پانے پر اسے نیٹ میں پہنچا دیا لیکن وی اے آر کی جانب سے آف سائیڈ قرار دیے جانے کے بعد ایرانیوں کی خوشیاں ماند پڑ گئیں۔
اس کے فوراً بعد فائنل وسل بج گئی جس کے بعد سفید شرٹس میں ملبوس ایرانی کھلاڑی بے یقینی کے عالم میں گراؤنڈ میں نڈھال ہو کر گرگئے۔
تین پوائنٹس کے ساتھ ایران کے پاس اب بھی بہترین تیسرے نمبر پر رہنے والی آٹھ ٹیموں میں سے ایک کے طور پر کوالیفائی کرنے کی امید برقرار ہے۔
مصری کھلاڑیوں کو میچ سے قبل ہی یہ معلوم ہو چکا تھا کہ دوسری جگہوں پر ہونے والے نتائج کے باعث وہ تاریخ میں پہلی بار آخری 32 (ناک آؤٹ مرحلے) کے لیے کوالیفائی کر چکے ہیں، لیکن اس حقیقت کے باوجود سیٹل میں ہونے والا یہ میچ اپنی شدت اور جوش و خروش میں ذرا برابر بھی کم نہ رہا۔
مصر نے میچ کے پانچویں منٹ میں ہی محمود صابر کے گول کے ساتھ برتری حاصل کر لی۔
بعدازاں ایران نے جوابی حملہ کیا اور پانچ منٹ بعد ہی اسے میچ برابر کرنے کا سنہری موقع ملا جب طارمی نے پینلٹی تو جیتی لیکن اسے گول میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔
چند منٹوں کے اندر ہی رامین رضائیان نے مشکل زاویے سے گول کر کے مقابلہ برابر کر دیا۔
مانچسٹر سٹی کے فارورڈ عمر مرموش کو دوسرے ہاف میں مصری حملوں میں نئی روح پھونکنے کے لیے میدان میں اتارا گیا۔
انہوں نے دوسرے ہاف کے وسط میں اپنا اثر دکھایا جب ان کا گول کی جانب جاتا ہوا ایک کرلی شاٹ ڈیفلیکٹ ہو کر کارنر میں بدل گیا۔
محمد صلاح کو 57 ویں منٹ میں میدان سے باہر بلا لیا گیا، وہ باہر جاتے ہوئے کافی ناخوش دکھائی دے رہے تھے، ان کی جگہ زیزو کو میدان میں اتارا گیا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لیورپول کے سابق لیجنڈ مصر کے اگلے راؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں اہم کردار ادا کریں گے۔