حکومتی قرضوں میں اضافے کی رفتار 15 سال کی کم ترین سطح پر
حکومتی قرضوں میں اضافے کی رفتار 15 سال کی کم ترین سطح پر آگئی جس میں جاری مالی سال کے دوران اب تک صرف 5 فیصد اضافہ ہوا جب کہ مالی سال 23 میں یہ شرح 23 فیصد تھی۔ حکام کے مطابق یہ بہتری قرضوں کے استحکام اور محتاط مالیاتی انتظام کی عکاس ہے۔
جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بعض پوسٹ حکومتوں کا موازنہ مجموعی قرضوں کے اعدادوشمار کی بنیاد پر کرتی ہیں، حالانکہ دنیا میں کہیں بھی خودمختار ممالک کے قرضوں کا جائزہ اس طریقے سے نہیں لیا جاتا۔ قرضوں کا اندازہ سرخیوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان کے پائیدار ہونے کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ وفاقی حکومت کا موجودہ قرض 81.9 کھرب روپے ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 97 سے 100 کھرب روپے کے جن اعدادوشمار کا حوالہ دیا جارہا ہے وہ مجموعی قرضوں اور واجبات پر مشتمل ہیں جن میں نجی شعبے کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں، لہٰذا انہیں صرف وفاقی حکومت کے قرض کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔
مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ عالمی سطح پر قرضوں کا جائزہ لینے کا تسلیم شدہ پیمانہ قرض ٹو جی ڈی پی کا تناسب ہے، نہ کہ قرض کی مطلق مالیت یا روپے میں اس کا حجم۔
پاکستان کا قرض ٹو جی ڈی پی تناسب مالی سال 19-2018 میں تقریباً 76 فیصد سے کم ہوا جو مالی سال 23-2022 تک تقریباً 75 فیصد کے قریب رہا اور اب مالی سال 26-2025 میں کم ہو کر تقریباً 68 فیصد پر آگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا بیرونی قرض بہ نسبت جی ڈی پی مالی سال 2019-20 میں تقریباً 28 فیصد تھا جو مالی سال 2022-23 تک اسی سطح پر برقرار رہا، تاہم مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر تقریباً 21 فیصد رہ گیا ہے جس کے نتیجے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے متعلق خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ سمت ہے جس کا ہر ملک ہدف رکھتا ہے۔
مشیر خزانہ نے نشاندہی کی کہ مرکزی قرضوں میں اضافے کی رفتار ڈرامائی حد تک سست پڑ گئی ہے جو مالی سال 2023 میں 23 فیصد سے کم ہو کر موجودہ مالی سال میں 5 فیصد رہ گئی ہےجو کہ گزشتہ 15 برس میں سب سے سست رفتار ہے جب کہ اس کا تاریخی اوسط تقریباً 12 فیصد سالانہ رہا ہے۔
مزید برآں پاکستان کے مقامی قرضوں کی اوسط میچورٹی 2.8 سال سے بڑھ کر 3.8 سال ہو گئی ہے جس سے ری فنانسنگ کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ دوسری جانب 4.7 ٹریلین روپے کے قرض کی واپسی کی گئی ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
خرم شہزاد نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ہر حکومت قرض لیتی ہے، اسے چکاتی ہے اور میچور ہونے والے قرضوں کو ری فنانس کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا قرض زیادہ پائیدار، زیادہ قابلِ برداشت اور کم خطرناک ہورہا ہے یا نہیں۔ آج اس کا جواب ہاں میں ہے۔