ڈالر کی پیش قدمی میں وقفہ، جاپانی ین 40 سالہ کم ترین سطح کے قریب
- یورو کی قدر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1361 ڈالر، برطانوی پاؤنڈ 1.3187 ڈالر پر مستحکم رہا
ایشیائی مارکیٹ میں ابتدائی کاروبار کے دوران جمعہ کو جاپانی ین ڈالر کے مقابلے میں اپنی 40 سالہ کم ترین سطح کے قریب ڈگمگاتا رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی افراطِ زر کے اعداد و شمار پیش گوئی کے عین مطابق آنے اور مرکزی بینک کے حکام کی جانب سے مستقبل کی پالیسی کے حوالے سے ملے جلے اشاروں کے بعد تاجروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات کو محدود کردیا ہے۔
161.96 کی سطح عبور کرنے کی صورت میں جاپانی ین 1986 کے بعد ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔
دوسری جانب جمعہ کو جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق ٹوکیو میں کور انفلیشن (بنیادی افراطِ زر) توقعات کے مطابق بڑھ گئی جس کے بعد ین کی قدر میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔
ڈالر انڈیکس جمعرات کو تین دن سے جاری اپنی مسلسل بڑھوتری کے سلسلے کو توڑتے ہوئے مئی 2025 کے بعد کی اپنی بلند ترین سطح سے قدرے نیچے آگیا۔
تاہم یہ اب بھی فروری کے آخر میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز کے بعد سے اپنی مسلسل دوسری ہفتہ وار اضافے کی راہ پر گامزن ہے۔
کیپٹل اکنامکس کے تجزیہ کاروں نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ گزشتہ ہفتے کے ایف او ایم سی اجلاس کے بعد ڈالر میں تیزی کے بعد آج اس کی قدر میں کچھ کمی آئی اور بہت قلیل مدت میں اس کے رک جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ لیکن ہمارا ماننا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان مانیٹری پالیسی میں ابھرتا ہوا فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2026 کی دوسری ششماہی میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافے کے امکانات موجود ہیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والے امریکی افراطِ زر کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ مئی میں مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔ فیڈرل ریزرو کا پسندیدہ پیمانہ پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچرز پرائس انڈیکس سالانہ 4.1 فیصد تک بڑھ گیا جس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور یہ اضافہ ماہرینِ معاشیات کی توقعات کے عین مطابق ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے مقررین نے ڈیٹا میں متضاد اشاروں کی نشاندہی کی۔
شکاگو فیڈرل ریزرو کے صدر آسٹن گولس بی نے جمعرات کو کہا کہ خدمات کے شعبے میں افراطِ زر کے حوالے سے امید کی ایک کرن موجود ہے تاہم بنیادی قیمتوں پر دباؤ اب بھی بہت زیادہ ہے اور غلط سمت میں بڑھ رہا ہے۔
دریں اثنا فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک کے صدر جان ولیمز کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سال افراطِ زر کے دباؤ میں کمی کا امکان ہے لیکن یہ اب بھی بہت زیادہ ہیں۔
ان تبصروں نے جلد شرح سود میں اضافے کی مارکیٹ کی امیدوں کو کچھ حد تک ٹھنڈا کر دیا ہے۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز میں اس بات کا 69 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی مرکزی بینک 29 جولائی کو ختم ہونے والے اپنے اگلے دو روزہ اجلاس میں شرح سود کو برقرار رکھے گا جبکہ ایک روز قبل یہ امکان 65.8 فیصد تھا۔
یورو کی قدر 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 1.1361 ڈالر رہی جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3187 ڈالر پر مستحکم رہا۔
آسٹریلوی ڈالر 0.2 فیصد گر کر 0.6899 ڈالر پر آگیا جبکہ نیوزی لینڈ کا ڈالر (کیوی) 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 0.5646 ڈالر پر رہا۔
بٹ کوائن 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 59,801.31 ڈالر اور ایتھر بھی 0.7 فیصد اضافے کے بعد 1,569.09 ڈالر پر ٹریڈ کررہا ہے۔