رائے

کیا اب ’’گرین اسپین پُٹ‘‘ کو خیرباد کہنے کا وقت آ گیا ہے؟

  • ٹیکنالوجی کے انقلابات اور مالیاتی بلبلے اکثر ساتھ ساتھ جنم لیتے ہیں، اور آج کا اے آئی بوم بھی شاید اسی تاریخی آزمائش سے گزر رہا ہے؛ اس لیے یہ بحث پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ مرکزی بینکوں کا کردار صرف بحران کے بعد صفائی کرنا ہے یا بحران سے پہلے خطرات کو محدود کرنا بھی۔
شائع June 25, 2026 اپ ڈیٹ June 25, 2026 04:04pm

وقت کا یہ اتفاق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔ اسی ہفتے جب سابق امریکی مرکزی بینک کے سربراہ ایلن گرین اسپین 100 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، مالیاتی منڈیاں ایک ایسے سوال سے دوچار دکھائی دیں جس سے بچنے کی کوشش انہوں نے اپنے بیشتر پیشہ ورانہ کیریئر میں کی تھی: جب اثاثوں کی قیمتوں میں غیر حقیقی اضافے (اثاثہ جاتی بلبلے) کے آثار نمایاں ہوں تو مرکزی بینک کو کیا کرنا چاہیے؟

اور یہ سوال اب محض نظریاتی نہیں رہا۔

امریکی چِپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں رواں سال ایک بار پھر دوگنی ہو چکی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر اخراجات کے تخمینے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ سرمایہ کار ایسی کمپنیوں کو کھربوں ڈالر کی مالیت دے رہے ہیں جن کے بارے میں انتہائی پُرامید اندازے بھی کئی برس بعد منافع بخش ہونے کی توقع ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات، تاجر اور ماہرینِ تعلیم اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ واقعی ایک تکنیکی انقلاب ہے، محض قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش ہے یا دونوں کا امتزاج۔ تاہم خود یہ بحث خاصی مانوس محسوس ہوتی ہے۔

شاید یہی پہلی ستم ظریفی ہے۔

گرین اسپین کا نام مالیاتی تاریخ کی ایک مشہور ترین تنبیہ سے ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔ 1996 میں ان کا ”غیر معقول جوش و خروش“ سے متعلق سوال فوراً ہی مالیاتی اصطلاحات کا حصہ بن گیا۔ یہ فقرہ قیاس آرائی، حد سے بڑھی ہوئی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کی بے قابو خوش فہمی کی علامت بن گیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی چیئرمین، جس نے یہ اصطلاح متعارف کرائی، اگلی دہائی کے بیشتر حصے میں یہ مؤقف اختیار کیے رہے کہ مرکزی بینکوں کو ایسے رویوں کے خلاف زیادہ مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

گرین اسپین کی دلیل نسبتاً سادہ تھی۔ پالیسی ساز یقین کے ساتھ یہ طے نہیں کر سکتے کہ کوئی رجحان بلبلہ ہے یا حقیقی معاشی تبدیلی۔ ایک کو روکنے کی کوشش میں دوسرا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بہتر یہی تھا کہ توجہ مہنگائی اور روزگار پر رکھی جائے، اور اگر منڈی گر جائے تو بعد میں اس کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

یہ بات سننے میں معقول لگتی ہے، لیکن ماضی کے آئینے میں دیکھیں تو اتنی قائل کرنے والی محسوس نہیں ہوتی۔

گرین اسپین کے دور میں فیڈرل ریزرو نے ڈاٹ کام بوم اور اس کے بعد کے انہدام کا مشاہدہ کیا۔ اس کے فوراً بعد ہاؤسنگ، رہن قرضوں اور کریڈٹ کا وہ بلبلہ پیدا ہوا جو بالآخر 2008 کے عالمی مالیاتی بحران پر منتج ہوا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کا ذمہ دار کسی ایک مرکزی بینکر کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ضابطہ جاتی ناکامیاں، بینکاری شعبے کی زیادتیاں اور سرمایہ کاروں کا طرزِ عمل بھی اس میں برابر شریک تھے۔ تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ بلبلوں کو نظرانداز کرنے اور بعد میں صفائی کرنے کی حکمت عملی نے کوئی خاص اطمینان بخش نتائج دیے۔

بعد از بحران اقدامات ہی جدید مالیاتی نظام کی ایک نمایاں خصوصیت بن گئے۔

منڈیوں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھ لیا کہ شدید بحران کی صورت میں شرح سود میں کمی، ہنگامی لیکویڈیٹی اور بالآخر بڑے پیمانے پر اثاثوں کی خریداری جیسے اقدامات سامنے آئیں گے۔ یوں نام نہاد ”گرین اسپین پُٹ“ بعد میں ”برنانکی پُٹ“ اور پھر ”پاول پُٹ“ میں تبدیل ہو گیا۔ اگرچہ مختلف سربراہان نے مختلف اوزار استعمال کیے، لیکن بنیادی توقع ایک ہی رہی: اگر منڈیاں بہت زیادہ گریں تو فیڈرل ریزرو بالآخر مداخلت کرے گا۔

سرمایہ کاروں نے یہ پیغام اچھی طرح سمجھ لیا۔

گزشتہ پچیس برسوں کے دوران اثاثوں کی قیمتیں بارہا غیر معمولی سطحوں تک اس لیے بھی پہنچیں کہ منڈیوں کو یقین ہوتا گیا کہ ان کے نیچے ایک حفاظتی جال موجود ہے۔ منافع نجی رہا، جبکہ نقصانات کم از کم جزوی طور پر مالیاتی مداخلت کے ذریعے اجتماعی سطح پر برداشت کیے گئے۔

یہ تاثر مکمل طور پر درست تھا یا نہیں، شاید اب یہ زیادہ اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ منڈیاں اس پر یقین کرتی تھیں۔

یہیں سے بات کیون وارش تک پہنچتی ہے۔

فیڈرل ریزرو کے نئے سربراہ کو فکری اعتبار سے بین برنانکی کے مقابلے میں گرین اسپین کے زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے بارہا ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری کے بوم کے پیداواری فوائد کو سراہا ہے، لیکن ساتھ ہی مالیاتی بحران کے بعد فیڈ کے بیلنس شیٹ میں غیر معمولی توسیع اور جدید بحرانوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی ہے۔

یہ امتزاج ایک دلچسپ امکان کو جنم دیتا ہے۔

اگر وارش بھی گرین اسپین کی طرح بلبلوں کی قبل از وقت نشاندہی یا ان پر قدغن لگانے سے گریز کرتے ہیں، لیکن بعد از بحران استعمال ہونے والے امدادی اوزاروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں، تو پھر اگر موجودہ مصنوعی ذہانت کا بوم کسی مرحلے پر مشکلات سے دوچار ہو جائے تو کیا ہوگا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ موجودہ بحث ماضی کے کئی واقعات سے مشابہت رکھتی ہے۔ اے آئی ریلی کے حامی حقیقی تکنیکی تبدیلی، پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافے اور انقلابی نوعیت کے استعمالات کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمتیں، قیاس آرائی پر مبنی رویے اور سرمایہ کاری کے تخمینے معاشی حقیقتوں سے کٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ممکن ہے دونوں فریق کسی حد تک درست ہوں۔

ڈاٹ کام دور نے بھی معیشت کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بہت سے بڑے وعدے بالآخر پورے ہوئے۔ انٹرنیٹ نے واقعی دنیا بدل دی۔ لیکن اس دوران نیسڈیک انڈیکس تقریباً 80 فیصد تک گر گیا تھا۔

یوں معلوم ہوتا ہے کہ تکنیکی انقلابات اور مالیاتی بلبلے ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اکثر دونوں ساتھ ساتھ آتے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں گرین اسپین کی میراث کو آج کی بحث سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ان کا بنیادی موقف یہ نہیں تھا کہ بلبلے وجود نہیں رکھتے، بلکہ یہ تھا کہ مرکزی بینک ان کی بروقت اور قابلِ اعتماد شناخت کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر بلبلہ اپنی تشکیل کے دوران منفرد دکھائی دیتا ہے، جبکہ یقین بعد میں آتا ہے۔

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی پسندیدہ حکمت عملی غیر معمولی حد تک آسان ہے: بلبلے کو اس لیے نظرانداز کرو کہ اس کی شناخت ممکن نہیں، پھر منڈی کے انہدام کے بعد صفائی کرو کیونکہ اسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ اور پھر اگلے بلبلے کے ساتھ یہی عمل دوبارہ دہراؤ۔

شاید یہ اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہو۔ خود گرین اسپین نے بھی اس مخمصے کو تسلیم کیا تھا۔ جو پالیسی ساز قیاس آرائی پر مبنی جوش و خروش کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر حقیقی اختراع کا گلا بھی گھونٹ سکتے ہیں۔ بہت کم مرکزی بینکر ایسے ہوں گے جو اگلے بڑے تکنیکی انقلاب کو روکنے کے الزام کا بوجھ اٹھانا چاہیں۔

لیکن متبادل راستہ بھی اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہے۔

اگر فیڈرل ریزرو واضح حد سے بڑھی ہوئی مالیاتی سرگرمیوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنا رہتا ہے تو کیا مالیاتی استحکام کے خدشات کو مالیاتی پالیسی میں زیادہ اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟ کیا اثاثوں کی قیمتوں کو بھی دیگر معاشی اشاریوں کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے کہ انہیں ایک غیر اہم یا پریشان کن پہلو سمجھ کر نظرانداز کر دیا جائے؟ اور اگر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والے فوائد نجی سرمایہ کاری، جائیداد کی منڈی اور صارفین کے اخراجات سمیت معیشت کے دیگر شعبوں میں بھی سرایت کر رہے ہیں تو کیا پالیسی ساز واقعی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ یہ پیش رفتیں ان کی نظروں سے اوجھل ہیں؟

یہ سوالات آج اس لیے بھی زیادہ اہم محسوس ہوتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث اب صرف وینچر کیپیٹل سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام تک محدود نہیں رہی۔ یہ تیزی سے حصص بازار کے اشاریوں، کارپوریٹ سرمایہ کاری کے فیصلوں، سرمایہ کی تقسیم اور گھریلو دولت کے رجحانات پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

ممکن ہے موجودہ تیزی اس سے وابستہ تمام توقعات کو درست ثابت کر دے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل کی آمدنیاں بالآخر موجودہ بلند قیمتوں کا جواز فراہم کر دیں۔ اور شاید آج کے شکوک و شبہات رکھنے والے افراد بھی انہی لوگوں کی طرح غلط ثابت ہوں جو کبھی انٹرنیٹ کی طاقت کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے تھے۔

لیکن ایلن گرین اسپین کے انتقال کے ہفتے میں اس بحث کے مانوس خد و خال کو نظرانداز کرنا مشکل ہے: ایک انقلابی ٹیکنالوجی، غیر معمولی حد تک بلند قیمتیں، مداخلت سے گریزاں مرکزی بینک، اور یہ بڑھتا ہوا یقین کہ اگر کچھ غلط ہوا تو آخرکار کوئی نہ کوئی صفائی کرنے ضرور آ جائے گا۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیئرمین بھی اپنے ساتھ وہی ’’صفائی کا سامان‘‘ لے کر آئے گا؟

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026