ایس ای سی پی کی خواتین کی قیادت والے چھوٹے کاروباروں کے لیے پہلی ڈیجیٹل قرضہ پروڈکٹ کی منظوری
- خودمختار خاتون: پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل، شرعی اصولوں کے مطابق فنانسنگ پروڈکٹ، خواتین کی قیادت والے چھوٹے کاروباروں کو اثاثہ جاتی مالی معاونت کی فراہمی
ایس ای سی پی نے پاکستان میں پہلی بار خواتین کی قیادت والے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں ( ایم ایس ایم ایز) کے لیے مخصوص ڈیجیٹل فنانسنگ پروڈکٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد خواتین کاروباری افراد کو رسمی مالیاتی نظام تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس پروڈکٹ کا نام ”خودمختار خاتون“ رکھا گیا ہے، جسے والی فنانشل سروسز نے تیار کیا ہے۔ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل اور شرعی اصولوں کے مطابق اثاثہ جاتی فنانسنگ اسکیم ہوگی جو خواتین کی ملکیت والے کاروباروں کے لیے دستیاب ہوگی۔
اس اسکیم کے تحت اہل خواتین کاروباری افراد کو ایک لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کی فنانسنگ فراہم کی جا سکے گی، جو کریڈٹ اسسمنٹ کی بنیاد پر ہوگی۔ یہ سہولت کمپنی کی ڈیجیٹل ایپ ”حکیم“ کے ذریعے دستیاب ہوگی، جس میں درخواست کا پورا عمل آن لائن مکمل کیا جا سکے گا۔
منظور شدہ رقم سے کاروباری خواتین پلیٹ فارم کے مربوط آن لائن مارکیٹ پلیس کے ذریعے اپنے لیے کاروباری اثاثے خرید سکیں گی، جو براہِ راست ان کے رجسٹرڈ پتے پر فراہم کیے جائیں گے۔
اس اسکیم کے تحت ادائیگی کی مدت 12 ماہ تک مقرر کی گئی ہے، جس میں ماہانہ مساوی اقساط کے ذریعے قرض کی واپسی ممکن ہوگی، تاکہ خواتین کاروباری ادارے اپنی کیش فلو مینجمنٹ بہتر انداز میں کر سکیں۔
ایس ای سی پی کے مطابق یہ اقدام مالی شمولیت کے فروغ اور خواتین کاروباری افراد کے لیے رسمی مالیاتی سہولتوں تک رسائی بڑھانے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، کیونکہ یہ طبقہ روایتی طور پر مالی نظام میں کم نمائندگی رکھتا ہے۔
والی فنانشل سروسز ایک لائسنس یافتہ نان بینکنگ فنانس کمپنی ( این بی ایف سی) ہے جو اس وقت سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل نینو فنانسنگ کی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس نئی منظوری کے بعد کمپنی کو صارفین کے لیے قرضوں سے آگے بڑھ کر ایم ایس ایم ای سیکٹر تک اپنی خدمات وسعت دینے کا موقع مل گیا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق این بی ایف سی قرضہ دینے والے ادارے معاشی طور پر محروم شعبوں تک مالی رسائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ان اداروں نے مجموعی طور پر تقریباً 111 ارب روپے کی فنانسنگ تقریباً 75 لاکھ مائیکرو اور چھوٹے کاروباروں کو فراہم کی۔
ماہرین کے مطابق خواتین کے لیے اس خصوصی فنانسنگ پروڈکٹ کا اجرا ملک بھر میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں اور مالی شمولیت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔