پاکستان

قومی اسمبلی نے 40.74 کھرب روپے کے چارجڈ اخراجات کی منظوری دیدی

  • آئین کے آرٹیکل 82(1) کے تحت چارجڈ اخراجات پر ووٹنگ نہیں ہوتی بلکہ بحث کے بعد انہیں منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے۔
شائع June 21, 2026 اپ ڈیٹ June 21, 2026 11:43am

قومی اسمبلی نے ہفتے کے روز فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے 40.742 کھرب روپے کی چارجڈ اخراجات کی منظوری دے دی، جو مالی سال 2026-27 کے لیے گرانٹس اور اختصاصات کی مد میں شامل ہیں۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے یہ چارجڈ اخراجات ایوان میں بحث اور منظوری کے لیے پیش کیے، جس کے بعد تفصیلی بحث کے بعد ایوان نے ان کی منظوری دے دی۔ آئین کے آرٹیکل 82(1) کے تحت چارجڈ اخراجات پر ووٹنگ نہیں ہوتی بلکہ بحث کے بعد انہیں منظور شدہ تصور کیا جاتا ہے۔

آرٹیکل 82(1) کے مطابق سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ کا وہ حصہ جو فیڈرل کنسولیڈیٹڈ فنڈ پر عائد اخراجات سے متعلق ہو، اس پر قومی اسمبلی میں بحث تو کی جا سکتی ہے لیکن اسے ووٹ کے لیے پیش نہیں کیا جا سکتا۔

چارجڈ اخراجات کی تفصیل کے مطابق 6.983 کھرب روپے اندرونی قرضوں کی سروسنگ، 25.992 کھرب روپے اندرونی قرضوں کی ادائیگی، 1.071 کھرب روپے بیرونی قرضوں کی سروسنگ، 5.836 کھرب روپے بیرونی قرضوں کی ادائیگی، جبکہ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لیے 5 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیگر اخراجات میں 6.936 ارب روپے پنشن اور ریٹائرمنٹ الاؤنسز، 57 ارب روپے گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات، 500 ملین روپے غیر ملکی مشنز، 539.407 ملین روپے لا اینڈ جسٹس ڈویژن، 7.969 ارب روپے قومی اسمبلی اور 6.453 ارب روپے سینیٹ کے لیے رکھے گئے ہیں۔

مزید تفصیل میں 607.309 ارب روپے وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز، 963.799 ملین روپے صدر مملکت (سرکاری) کے اسٹاف و مراعات، 1.837 ارب روپے صدر مملکت (ذاتی) اخراجات، اور 130.292 ارب روپے قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہیں۔

مزید اخراجات میں 9.820 ارب روپے آڈٹ، 7.441 ارب روپے سپریم کورٹ، 6.048 ارب روپے وفاقی آئینی عدالت، 2.367 ارب روپے اسلام آباد ہائی کورٹ اور 10.578 ارب روپے انتخابی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔

دیگر مختص رقوم میں 258.541 ملین روپے وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی، 2.124 ارب روپے وفاقی محتسب اور 645.572 ملین روپے فیڈرل ٹیکس محتسب کے لیے شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026