فٹبال کا بخار
- درحقیقت فٹبال اور لیاری کے گہرے تعلق کو دیکھتے ہوئے یہاں کھیل کے شوقین افراد کے لیے کسی مخصوص گراؤنڈ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ پورا لیاری ہی ایک ’فٹبال اسٹیڈیم‘ کا منظر پیش کرتا ہے
کراچی کے کھیلوں کے شائقین کا عموماً کسی بھی کھیل میں کرکٹ کے سوا زیادہ دلچسپی لینا غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے، تاہم فٹبال اس معاملے میں ایک استثنیٰ ہے۔
یہ کھیل نہ صرف بالخصوص نوجوانوں اور فٹبال کے شوقین افراد کے تخیل کو مسحور کرتا ہے بلکہ کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ یہ کھیل ملک کے زرمبادلہ کے حصول میں بھی نمایاں حصہ ڈالتا ہے۔
یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاکستان میں ہر سال 40 سے 65 ملین فٹبال تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ فٹبال محض مقامی استعمال کے لیے نہیں ہوتے بلکہ یہ عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی فٹبال پیداوار کا تقریباً 70 فیصد بنتے ہیں۔
یہ پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر سنگِ میل ہے، اور اس فٹبال سازی کے بڑے مرکز کی حیثیت سیالکوٹ کو حاصل ہے، جو اپنی عالمی معیار کی سرجیکل مصنوعات کی تیاری کے باعث بھی دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔
پاکستان میں تیار ہونے والے فٹبالز باقاعدگی سے عالمی مقابلوں میں استعمال ہوتے ہیں، جن میں فیفا ورلڈ کپ 2026، اس سے قبل کے فیفا ورلڈ کپ اور یوئیفا چیمپئنز لیگ شامل ہیں۔ اسی طرح پاکستانی کمپنیوں نے 2014 کے فیفا ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس برازوکا، 2018 کے ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس ٹیلسٹار 18، اور 2022 کے ورلڈ کپ کے لیے ایڈیڈاس رہلا فٹبالز بھی تیار کیے۔
تاہم اس وسیع پیداوار کو ہمیشہ خوشگوار نظر سے نہیں دیکھا گیا، اور بعض حلقوں کی جانب سے پیداواری عمل کو بدنام کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ الزام عائد کیا گیا کہ اس صنعت میں جبری یا بندھوا چائلڈ لیبر استعمال ہوتی ہے، جس کے بعد اس حوالے سے ایک مہم بھی چلائی گئی۔ پاکستان نے اس سلسلے میں ہر طرح کے معائنے اور جانچ پڑتال کو رضاکارانہ طور پر قبول کیا۔
بعد ازاں یہ معاملہ اس وقت طے پایا جب انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے مشترکہ طور پر فٹبال سازی میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے ایک شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے۔ ایک بعد ازاں رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیالکوٹ میں فٹبال کی پیداوار گھروں سے منتقل ہو کر باقاعدہ نگرانی والے سلائی مراکز میں آ چکی ہے اور اس صنعت میں چائلڈ لیبر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
صنعت کاروں اور محنت کشوں کی دانشمندی اور دوراندیشی کے باعث سیالکوٹ کی فٹبال سازی نہ صرف برقرار رہی بلکہ اس میں مزید وسعت بھی آئی۔ اس سال ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والا فٹبال ”ایڈیڈاس ٹرائیونڈا“ بھی 2025 میں متعارف کرایا گیا اور پاکستان میں تیار کیا گیا۔
یہ تو فٹبال اور اس میں پاکستان کے کردار کی بات ہوئی، لیکن اس تناظر میں جس پہلو کا سب سے زیادہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے وہ کراچی کا ایک علاقہ لیاری ہے، جو فٹبال کا حقیقی گڑھ سمجھا جاتا ہے اور جس کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
لیاری میں فٹبال کی آمد بھی نہایت دلچسپ ہے۔ یہ کھیل سب سے پہلے وہاں سمندری سفر کرنے والی برادریوں اور بیرونِ ملک سے آنے والے تاجروں کے ذریعے متعارف ہوا، جس نے اسے پاکستان کے دیگر علاقوں سے کہیں پہلے مقبول بنا دیا۔
آج لیاری میں پیپلز فٹبال اسٹیڈیم کے ساتھ فٹبال کے حوالے سے یہ علاقہ اب بھی سرفہرست مقام رکھتا ہے، جہاں یہ کھیل کے لیے ایک اہم تربیتی میدان اور پاکستان کی قومی فٹبال ٹیم کے مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔
درحقیقت فٹبال اور لیاری کے گہرے تعلق کو دیکھتے ہوئے یہاں کھیل کے شوقین افراد کے لیے کسی مخصوص گراؤنڈ کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی، کیونکہ پورا لیاری ہی ایک ’فٹبال اسٹیڈیم‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے دوران لیاری کی گلیاں جوش و خروش سے بھر جاتی ہیں، اور گھر، دکانیں اور دیگر عمارتیں قومی پرچموں سے سج جاتی ہیں۔
نمایاں مقامات پر بڑے پیمانے پر عوامی اسکرینیں نصب کی جاتی ہیں، جہاں شائقین کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے جمع ہوتی ہے۔ لیاری کے لوگ تفریح پسند اور رنگوں سے محبت کرنے والے ہیں، اور ورلڈ کپ کے دوران ہر لمحے سے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔ وہ میچوں کے دوران بجنے والی دھنوں پر ماہر رقاصوں کی طرح ردِعمل دیتے ہیں۔
سیالکوٹ میں فٹبال کی تیاری اور برآمد کی صنعت اور ورلڈ کپ کے دوران لیاری میں ہونے والی پرجوش تقریبات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، اور یہ ملک ہر قسم کی رکاوٹوں پر قابو پا کر مشکل حالات میں بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
لیاری کے لوگ، جن کی بڑی تعداد نسبتاً پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے، اپنی روزمرہ مشکلات کو پسِ پشت ڈال کر بھرپور جوش و جذبے سے جشن مناتے ہیں۔
فٹبال کا بخار سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور باقی سب کچھ وقتی طور پر پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ سیالکوٹ میں تیار ہونے والے فٹبالز دنیا بھر میں کھیلے جاتے ہیں، جو اس شعبے میں پاکستان کی برتری اور مہارت کا عملی ثبوت ہیں۔ کھیل شروع ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ گیند کس کروٹ بیٹھتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026