کھیل

ایران کا ورلڈ کپ سفری پابندیوں پر فیفا سے باضابطہ شکایت کرنے کا فیصلہ

  • امریکی حکام نے ان پر یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ میچ سے 24 گھنٹے کے اندر ملک میں داخل ہوں اور اسی دن واپس روانہ ہو جائیں
شائع June 19, 2026 اپ ڈیٹ June 19, 2026 10:38pm

ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا میں امریکا میں ورلڈ کپ کے دوران اپنی ٹیم کو درپیش سفری پابندیوں کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرائے گا۔

رپورٹس کے مطابق غیر یقینی ویزا صورتحال اور امریکا کے ساتھ کشیدگی کے باعث ایرانی ٹیم اپنے گروپ مرحلے کے تینوں میچوں کے لیے میکسیکو میں موجود ٹورنامنٹ بیس سے امریکا آمدورفت کرے گی، جو مشترکہ میزبان ملک ہے۔

امریکی حکام نے شرط عائد کی ہے کہ ٹیم کو میچ سے 24 گھنٹے کے اندر امریکا میں داخل ہونا ہوگا اور اسی دن واپس روانہ ہونا ہوگا، جس پر ہیڈ کوچ امیر قلعه نویی نے ایران کو ٹورنامنٹ کی ”سب سے زیادہ دباؤ میں رہنے والی“ ٹیم قرار دیا ہے۔

ایران فٹبال فیڈریشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندیاں شریک ٹیموں کے لیے برابر مواقع فراہم کرنے کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ان سے ٹیم کی تکنیکی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔

فیڈریشن نے جمعہ کو فیفا میں اپنی شکایت دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال غیر منصفانہ ہے۔

فیفا نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

کوچ امیر قلعه نویی نے کہا کہ ان رکاوٹوں نے پیر کو نیوزی لینڈ کے ساتھ 2-2 کے ڈرا میچ میں ایران کو نقصان پہنچایا۔

ایران فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ کوچنگ اسٹاف کے منصوبے کے مطابق قومی ٹیم کو ہر میچ سے دو دن قبل میزبان شہر میں پہنچنا ضروری تھا تاکہ بہترین تکنیکی اور جسمانی تیاری ممکن ہو سکے، اور پھر میچ کے اگلے دن اپنے بیس کیمپ واپس لوٹنا تھا۔

فیڈریشن کے مطابق تاہم نیوزی لینڈ کے خلاف افتتاحی میچ کے لیے یہ درخواست منظور نہیں کی گئی۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا ہے کہ یہ اقدامات سکیورٹی کے پیش نظر ہیں اور ایران کے ساتھ طے پائے گئے معاہدے کے مطابق نافذ کیے گئے ہیں۔ ایران کی ٹیم 21 جون کو لاس اینجلس میں بیلجیم کے خلاف اور 27 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف اپنے گروپ میچز کھیلے گی۔

محکمہ کے ترجمان نے رائٹرز کی ای میل پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو میچ سے ایک دن پہلے (میچ ڈے مائنس ون) داخلے کی اجازت ہوگی اور میچ مکمل ہوتے ہی اسی دن شام کو واپس روانہ ہونا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر کی خواہش ہے کہ توجہ کھیل کے میدان میں کارکردگی پر رہے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسٹیڈیمز، بیس کیمپس اور ٹریننگ سائٹس کے اطراف مکمل سکیورٹی اور حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔