ین 40 سال کی کم ترین سطح کے قریب، جاپان کی مداخلت کا خدشہ بڑھ گیا
- ٹوکیو میں ابتدائی تجارت کے دوران ین 161.25 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ رات کے وقت یہ 161.81 تک گر گیا
جاپانی کرنسی ین جمعے کے روز تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطح کے قریب ٹریڈ کرتی رہی، جس کے بعد مارکیٹ میں جاپانی حکومت کی ممکنہ مداخلت کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
امریکا میں جونٹینتھ تعطیل کے باعث کم تجارتی سرگرمیوں کے دوران کم لیکویڈیٹی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے، جس سے جاپان کے دوبارہ مارکیٹ میں مداخلت کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس سے قبل اپریل اور مئی میں جاپان نے 11.7 کھرب ین (تقریباً 72.5 ارب ڈالر) کی مداخلت کی تھی۔
جاپانی وزیر خزانہ سوتسکی کاتا یاما نے کہا ہے کہ حکام قیاس آرائی پر مبنی غیر معمولی کرنسی حرکات کے خلاف سخت اقدامات کے لیے تیار ہیں اور جی 7 اجلاس میں بھی اس صلاحیت کی توثیق کی گئی ہے۔
ٹوکیو میں ابتدائی تجارت کے دوران ین 161.25 فی ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جبکہ رات کے وقت یہ 161.81 تک گر گیا، جو جولائی 2024 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ اگر یہ 161.96 کی سطح سے نیچے جاتا ہے تو یہ 1986 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔
جاپان کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں حالیہ اضافے کے باوجود ین پر دباؤ برقرار ہے، کیونکہ امریکا اور جاپان کے درمیان شرح سود کا بڑا فرق برقرار ہے، جو ڈالر کو مضبوط اور کیری ٹریڈز کو پرکشش بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار کم شرح سود پر ین میں قرض لے کر زیادہ منافع والی کرنسیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔
مارکیٹ توقع کر رہی ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک سال کے آخر تک مزید شرح سود بڑھا سکتا ہے، تاہم اس کے باوجود ین پر مندی کا رجحان برقرار ہے۔
بینک آف جاپان کے ڈپٹی گورنر ریووزو ہیمینو نے پارلیمنٹ میں کہا کہ اگرچہ پالیسی کا مقصد براہ راست شرح تبادلہ کو کنٹرول کرنا نہیں، لیکن کرنسی کی شدید اتار چڑھاؤ معیشت اور مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کو اس بات پر نظر رکھنی ہوگی کہ مارکیٹ کی حرکات کس طرح افراطِ زر کی توقعات اور بنیادی مہنگائی کو متاثر کرتی ہیں۔
دوسری جانب ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاپان جیسے درآمدی ملک پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس سے ین مزید کمزور ہو رہا ہے۔
یورپی مرکزی بینک بھی سخت مالیاتی پالیسی اپنا رہا ہے جبکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی سخت پالیسی نے ڈالر کو مزید مضبوط کیا ہے، جس سے ین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو جاپانی حکام کو ایک بار پھر کرنسی کو سہارا دینے کے لیے مداخلت کرنا پڑ سکتی ہے۔