Perspectives

انٹرنیٹ بندش سے ڈیجٹیل معیشت کی تباہی

  • ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا
شائع اپ ڈیٹ

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیلیوری رائیڈر دانش عبدالرازق مئی 2023 میں شدید پریشانی اور گھبراہٹ کا شکار تھے۔ نہ صرف انہوں نے چار دن میں 8,000 روپے سے زائد کھو دیے بلکہ اپنے بچوں، بیوی اور والدہ کو بھوکا سوتے دیکھنا ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا۔

بائیکیا کے 32 سالہ ملازم جو ایک پاکستانی رائیڈ ہیلنگ سروس اور پارسل ڈیلیوری کمپنی ہے - کا انحصار موبائل انٹرنیٹ پر ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے آرڈرز کی لوکیشن حاصل اور ٹریک کر سکے۔ لیکن جب سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لیے ملک بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئیں تو ان کا کام مکمل طور پر رک گیا۔ ٹوئٹر، یوٹیوب اور واٹس ایپ جیسی سائٹس بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں اور موبائل انٹرنیٹ تک رسائی چار دن بعد بحال ہوئی۔

دانش کہتے ہیں کہ گھر میں حالات تیزی سے خراب ہو گئے، تصور کریں آپ اپنی ملازمت پر جا رہے ہیں اور ایک دن آپ کو بتایا جائے کہ گھر میں کھانا نہیں ہوگا کیونکہ انٹرنیٹ نہیں ہے، اور مزید بتاتے ہیں کہ ان کی روزانہ کی آمدنی ان کے خاندان کے روزمرہ اخراجات پورے کرتی ہے جس میں ان کی بیوی، والدہ اور دو بچے شامل ہیں۔

ٹاپ 10 وی پی این کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2024 میں انٹرنیٹ بندشوں کے باعث دنیا میں سب سے زیادہ معاشی نقصان برداشت کیا جو 1.62 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی رپورٹ کے مطابق آن لائن فوڈ ڈیلیوری سروسز میں آرڈرز کی تعداد میں 75 فیصد کمی جبکہ آن لائن ٹیکسی سروسز میں 97 فیصد کمی رپورٹ کی گئی۔

29 سالہ سوہا یاسین سوویئرز کی بانی ہیں، جو پاکستان اور یو اے ای میں کام کرنے والا ایک معروف کپڑوں کا برانڈ ہے۔ 2018 سے یہ برانڈ غیر معمولی ترقی کر چکا ہے اور تیزی سے مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ اس کے آٹھ ریٹیل آؤٹ لیٹس ہیں اور انسٹاگرام و فیس بک پر مجموعی طور پر 831,000 فالوورز ہیں۔ تاہم بار بار انٹرنیٹ کی بندش اس کی مسلسل کامیابی کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتی ہے۔

انٹرنیٹ بندش کے دوران، فیس بک اور گوگل اشتہارات میں بھاری سرمایہ کاری کے باوجود، سوویئرز کے آن لائن آرڈرز میں 20 فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ سوہا کہتی ہیں کہ ایک دن میں آرڈرز کا ایک بڑا حصہ آتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پورے دن کا منافع اچانک غائب ہو جاتا ہے (بندش کے دوران)۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ انٹرنیٹ سروسز کی بندش دل توڑ دینے والی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار اشتہارات کے لیے سوشل میڈیا پر انحصار کرتے ہیں اور ڈیلیوری سروسز بند ہونے سے آرڈرز میں تاخیر بھی ہوتی ہے۔

اسی طرح دیگر کاروباروں میں بھی مالی نقصان کی کہانیاں سنائی دیتی ہیں۔ نوفل خان سوگ کیکس کے بانی، جو سیکنڈ ہینڈ کپڑوں کا آن لائن پلیٹ فارم ہے، انٹرنیٹ بندش کو اپنا سب سے بڑا خوف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ حتیٰ کہ اگر صارفین ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر بھی لیں تو انتہائی سست انٹرنیٹ رفتار کی وجہ سے وہ خریداری مکمل کرنے سے پہلے ہی لاگ آؤٹ کر دیتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ 8 سیکنڈ میں لوڈ ہو رہی تھی، جبکہ عام طور پر یہ 1.5 سیکنڈ میں مکمل لوڈ ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ اس سے صارف کی مایوسی میں اضافہ ہوا ہوگا۔

پاکستان میں مختلف وجوہات کی بنا پر انٹرنیٹ بند کرنے کی ایک طویل تاریخ رہی ہے۔ ملک کو انٹرنیٹ پابندیوں کے نفاذ کے لحاظ سے دنیا میں تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے، جہاں 2025 میں 20 سے زائد انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز رپورٹ ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سب سے طویل انٹرنیٹ بندش پاکستان میں ہوئی جہاں سابق فاٹا کے 45 لاکھ افراد کو 2016 سے 2021 تک تقریباً چار سال تک انٹرنیٹ بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستان میں ڈیجیٹل عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی ایک بڑا رکاوٹ ہے، خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے جو فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سرمایہ کاروں کے لیے یہ دیکھنا کہ ان کی رقم ایسے کاروباروں میں لگ رہی ہے جو کسی بھی وقت… ایسی چیز سے متاثر ہو سکتے ہیں جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں اور جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہیے تھی، یہ ایک بڑا صدمہ تھا، سینن ڈی سوزا، کو-فاؤنڈر انویسٹرز لاؤنج کہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید کم کرتے ہیں، جو کہ ایک ابھرتے ہوئے نظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔

پاکستانی کاروبار مستقبل میں انٹرنیٹ بندشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل اقدامات اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ بعض دنوں میں جب انٹرنیٹ بندش کی پیش گوئی ہوتی ہے، نوفل اور سوہا سوشل میڈیا اشتہارات کے اخراجات کم یا بند کر دیتے ہیں۔ اس نے سوہا کو اپنے برانڈ کو بین الاقوامی مارکیٹوں میں پھیلانے اور پاکستان پر مکمل انحصار کم کرنے پر بھی مجبور کیا ہے۔

سوہا کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کے بارے میں میرا خیال ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمارے کاروبار کے لیے بہترین بات یہ ہے کہ ہم اسے بین الاقوامی سطح پر بڑھائیں اور ایک ہی ذریعہ یعنی پاکستان پر انحصار نہ کریں۔ برانڈ کے 20 فیصد آرڈرز بین الاقوامی مارکیٹس سے آتے ہیں اور سوہا عالمی موجودگی کو مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

پاکستان دنیا کی ٹاپ پانچ فری لانسنگ مارکیٹس میں شامل ہے جہاں 3 ملین سے زائد فری لانسرز موجود ہیں۔ اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے کئی مراعات متعارف کرائی ہیں، لیکن یہ کوششیں بے معنی ہو جاتی ہیں اگر انٹرنیٹ ہی موجود نہ ہو، جو آن لائن کام کی سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے فائیور نے عارضی طور پر پاکستانی فری لانسرز کو گیگز تک رسائی سے روک دیا تھا۔

سینن کہتے ہیں یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ صرف وہ معاہدہ نہیں جسے میں کھو رہا ہوں، میں مستقبل کا کام بھی کھو رہا ہوں کیونکہ کلائنٹ یہ کہے گا کہ آپ ایک ناقابلِ اعتماد سپلائر ہیں، حالانکہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں، یہ میرے اختیار میں نہیں۔

انٹرنیٹ تک رسائی ایک ضرورت ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کی کمی بے چینی پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے: ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار انٹرنیٹ پر ہے، جیسے فوڈ ڈیلیوری، رائیڈ ہیلنگ اور دیگر بنیادی کام، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹلائزیشن کے باعث رویوں میں تبدیلی کو سالوں لگتے ہیں۔ بار بار انٹرنیٹ بندش کے پیش نظر راتوں رات تبدیلی ممکن نہیں۔

سینن کہتے ہیں لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بنیادی تبدیلیاں اس مفروضے پر کی ہیں کہ انٹرنیٹ کبھی متاثر نہیں ہوگا۔ راستوں اور نشانیوں کو یاد رکھنے پر انحصار کم ہو گیا ہے کیونکہ آپ گوگل میپس استعمال کر سکتے ہیں۔ اب آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں بغیر نقشے کے کسی جگہ پہنچوں، تو یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کئی مہینوں سے میں نے یہ عمل گوگل میپس کے سپرد کر دیا ہے۔