مارکٹس

امریکا ایران معاہدے کے بعد سونا ایک فیصد سے زائد مہنگا

  • اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,316.42 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا
شائع June 18, 2026 اپ ڈیٹ June 18, 2026 10:14am

سونے کی عالمی قیمتوں میں جمعرات کے روز ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور مہنگائی کے خدشات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔

اسپاٹ گولڈ 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,316.42 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 1.7 فیصد گرا تھا۔ دوسری جانب اگست کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 1 فیصد کمی کے بعد 4,336.70 ڈالر پر آ گئے۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ بحالی گزشتہ روز کی شدید کمی کے بعد شارٹ کورنگ کے باعث ہوئی ہے۔ اوینڈا کے سینئر تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ سے مثبت خبروں کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، جس سے سونے پر دباؤ کم ہوا ہے۔

امریکا اور ایران نے بدھ کے روز اپنے عبوری معاہدے کا متن جاری کیا، جس کے تحت اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع کی گئی ہے تاکہ حتمی امن معاہدے پر بات چیت کی جا سکے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں میں کمی نے مہنگائی کے خدشات کو کم کیا ہے، جس کے نتیجے میں شرح سود میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔ عام طور پر بلند شرح سود کے ماحول میں سونے کی کشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ منافع نہیں دیتا۔

فیڈرل ریزرو کے 19 میں سے 9 پالیسی سازوں نے اس سال شرح سود میں اضافے کی ضرورت کا عندیہ دیا ہے، جبکہ مارکیٹ میں دسمبر تک شرح سود میں اضافے کے امکانات 85 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔

دوسری قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا، چاندی 1.8 فیصد بڑھ کر 69.18 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 1.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,757.53 ڈالر اور پیلیڈیم 1.3 فیصد بڑھ کر 1,329.99 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔