پاکستان

عمران خان کو پانچواں انجکشن کیوں؟ علیمہ خان کا سوال، طبی معائنے کا مطالبہ

  • پمزکی رپورٹس مسترد، بانی پی ٹی آئی کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 03:52pm

اپنے بھائی کی صحت سے متعلق پمز اسپتال کی جانب سے جاری ہونے والی کسی بھی میڈیکل رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے علیمہ خان نے منگل کو سوال اٹھایا کہ سابق وزیرِاعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آنکھ میں پانچواں میڈیکل انجیکشن دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ انہیں پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے 15 جون کی صبح سویرے عمران خان کو پمز اسپتال لے جانے کے بارے میں پتہ چلا۔

ہم عمران خان کی حالت کے حوالے سے پمز کی جانب سے تیار کی گئی کسی بھی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ اسی ادارے نے اس سے قبل بھی مشکوک دعوے کیے تھے جن میں یہ دعویٰ شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد تک بحال ہو چکی ہے۔ عمران خان نے خود بھی ان دعوؤں کو مسترد کیا تھا جب ان کے وکیل نے بعد ازاں اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی۔

ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجکشن کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے سوال کیا۔

انہوں نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہرین سے کرایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک فوری اور ہنگامی ترجیح ہے۔

علیمہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ حکام نے بار بار عدالت کے اُن احکامات کی خلاف ورزی کی ہے جن کے تحت خاندان کو ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے حکومت پر عمران خان کو تنہائی میں رکھنے کا بھی الزام لگایا اور ان کے حقوق کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جن میں اہل خانہ سے ملاقات، قانونی مشاورت تک رسائی اور آزاد طبی علاج شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک عدالتی فل بینچ کا حکم چھ خاندان کے افراد کو ہر منگل عمران خان سے ملنے کی اجازت دیتا ہے، تاہم گزشتہ آٹھ ماہ سے حکام نے بڑی حد تک اس حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند بار ان سے ملنے کی اجازت دی گئی اور ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔

ہم عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈوں کے طور پر حکومت کی جانب سے تنہائی میں رکھنے اور سہولیات سے محروم رکھنے کے مسلسل عمل کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آج ہم توقع کرتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے گی۔

علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی کے حقوق کی نفی صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، یہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات، دونوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جیل مینول کے مطابق عمران خان اپنے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلی فون کال، اہل خانہ کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات، قانونی مشیر کے ساتھ ہفتہ وار ملاقات، کتابیں اور پڑھنے کا مواد، ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی، مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنے کے حقدار ہیں۔ نیز، کسی بھی طبی طریقہ کار کو انجام دینے سے پہلے خاندان کے قریبی افراد کو مطلع کرنا بھی ضروری ہے۔