کاروبار اور معیشت

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی برآمدی لیوی کو حتمی ٹیکس قرار دینے کی تجویز

  • کونسل نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی تنظیمِ نو کو بھی سراہا
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 10:26am

پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو خوش آئند اور بزنس فرینڈلی قرار دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ برآمدات پر عائد مجموعی 1.25 فیصد لیوی کو برآمد کنندگان کے لیے انکم ٹیکس کی مکمل اور حتمی ادائیگی تصور کیا جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو علیحدہ خطوط میں پی ٹی سی کے چیئرمین فواد انور نے حکومت کی ان اصلاحات کو سراہا جن کا مقصد کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہے۔

کونسل نے تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز کی تنظیمِ نو کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے عوام کی قابلِ خرچ آمدن میں اضافہ ہوگا، اندرونی طلب بڑھے گی اور ملک کے برآمدی شعبے کی معاون افرادی قوت مضبوط ہوگی۔

پی ٹی سی نے ان کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس میں نرمی کا بھی خیر مقدم کیا جن کی آمدن 50 کروڑ روپے تک ہے، اور اسے پیداواری کارپوریٹ شعبے کے لیے اہم ریلیف قرار دیا جو سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

کونسل نے خاص طور پر برآمد کنندگان پر سپر ٹیکس کے خاتمے کو سراہتے ہوئے اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، برآمدی صنعتوں پر مؤثر ٹیکس بوجھ کم ہوگا اور پاکستان کی برآمدی پالیسی خطے کے دیگر ممالک کے ہم پلہ ہو جائے گی۔

مزید برآں پی ٹی سی نے برآمدی آمدنی پر مجموعی لیوی کو 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کو سراہا اور اسے کیش فلو کے دباؤ میں کمی اور شعبے میں لیکویڈیٹی بہتر بنانے کے لیے اہم اقدام قرار دیا۔

اگرچہ کونسل نے بجٹ کی مجموعی سمت کی حمایت کی، تاہم اس نے برآمدی مسابقت کو مزید بہتر بنانے کے لیے دو اضافی تجاویز بھی پیش کیں۔ اس نے حکومت سے درخواست کی کہ 1.25 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کو برآمد کنندگان کے لیے انکم ٹیکس کی مکمل اور حتمی ادائیگی تصور کیا جائے، تاکہ ٹیکس نظام میں یقینی صورتحال پیدا ہو، تنازعات کم ہوں اور نئی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔

متبادل کے طور پر، کونسل نے تجویز دی کہ اگر یہ فوری طور پر ممکن نہ ہو تو برآمدی آمدنی پر کارپوریٹ انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد تک کم کی جائے۔ اس کے مطابق یہ شرح پاکستان کو بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے علاقائی حریفوں کے قریب لے آئے گی اور برآمدی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ فواد انور نے کہا کہ فنانس بل 2026-27 حکومت کے برآمدی ترقی اور معاشی استحکام کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مجوزہ بہتریاں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ریلیف حقیقی طور پر برآمد کنندگان تک پہنچے اور طویل مدتی برآمدی ترقی کے اہداف حاصل ہوں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026